جموں و کشمیر میں 11 سے 19 جولائی تک بارش کی پیشگوئی
جموں، 11 جولائی (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں 11 سے 19 جولائی تک شدید بارش، گرج چمک، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق 11 اور 12 جولائی کو جموں و کشمیر کے بعض علاقوں میں دوپہر ک
Weather


جموں، 11 جولائی (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں 11 سے 19 جولائی تک شدید بارش، گرج چمک، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق 11 اور 12 جولائی کو جموں و کشمیر کے بعض علاقوں میں دوپہر کے بعد اور علی الصبح شدید بارش ہو سکتی ہے، جبکہ چند مقامات پر مختصر وقت کے لیے موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔ چناب وادی اور پیر پنچال کے حساس علاقوں میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے کھسکنے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

محکمۂ موسمیات کے ایک افسر نے بتایا کہ 13 سے 16 جولائی تک موسم مجموعی طور پر گرم اور حبس زدہ رہے گا، تاہم مختلف مقامات پر ہلکی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بوندا باندی متوقع ہے۔ جموں صوبے کے چند الگ الگ علاقوں میں تیز بارش کے مختصر سلسلے بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

پیش گوئی کے مطابق 17 سے 19 جولائی کے دوران مانسون دوبارہ سرگرم ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر کے کئی حصوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔ پہاڑی علاقوں میں بارش کی شدت نسبتاً زیادہ رہ سکتی ہے، جس سے درجۂ حرارت میں کمی آنے کی توقع ہے۔ محکمۂ موسمیات نے عوام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ندی نالوں، برساتی کھڈوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے مقامات سے دور رہیں۔

چناب وادی اور پیر پنچال کے حساس علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے اور پہاڑی راستوں پر روانگی سے قبل موسم کی تازہ ترین معلومات ضرور حاصل کی جائیں۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں مقامی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں سے فوری رابطہ کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

محکمہ نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی فصلوں کو شدید بارش سے بچانے کے لیے ضروری انتظامات کریں، جبکہ سیاحوں سے اپیل کی گئی ہے کہ آئندہ چند روز تک حساس اور پہاڑی علاقوں کا سفر مؤخر کر دیں۔ محکمۂ موسمیات نے عوام سے افواہوں پر توجہ نہ دینے اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی اطلاعات پر اعتماد کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande