نائب وزیر اعلیٰ نے میر واعظ کو دعوت دینے کے فیصلے کا دفاع کیا
جموں، 11 جولائی (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے نیشنل کانفرنس کی جانب سے میرواعظ عمر فاروق کو 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ ریاستی درجہ بحالی احتجاج میں شرکت کی دعوت دینے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس پر ا
Dy cm


جموں، 11 جولائی (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے نیشنل کانفرنس کی جانب سے میرواعظ عمر فاروق کو 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ ریاستی درجہ بحالی احتجاج میں شرکت کی دعوت دینے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس پر اعتراض کرنے والوں کو پہلے یہ بتانا چاہیے کہ کیا میرواعظ جموں و کشمیر کے شہری نہیں ہیں۔ جموں میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے سریندر چودھری نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس معاملے پر سوال اٹھا رہی ہے، حالانکہ وہ خود ماضی میں میرواعظ سے رابطے رکھتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرواعظ کے پاس ووٹر شناختی کارڈ اور آدھار کارڈ موجود ہے، اس لیے انہیں ریاست کا شہری تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی نظریات اپنی جگہ، لیکن ریاستی درجہ کی بحالی ایسا مسئلہ ہے جو تمام باشندوں سے متعلق ہے، اسی لیے نیشنل کانفرنس نے سبھی جماعتوں، بشمول بی جے پی، کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر بی جے پی واقعی جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے تو اسے 20 جولائی کو جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ میرواعظ کی دعوت پر بی جے پی کا اعتراض محض سیاسی نمائش ہے۔

سریندر چودھری، نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر جموں رتن لال گپتا کے ہمراہ، ہری سنگھ پارک میں پارٹی کی مجوزہ ریلی کے انتظامات کا جائزہ لینے پہنچے تھے۔ یہ ریلی 12 جولائی کو منعقد ہوگی جس سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ خطاب کریں گے اور عوام کو ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے 20 جولائی کے جنتر منتر مارچ کی حمایت پر آمادہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ نے جموں و کشمیر کو جلد ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر اٹھارہ ماہ گزرنے کے باوجود یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ عوام کو یہ بھی بتائیں گے کہ ریاستی درجہ نہ ہونے کی وجہ سے منتخب حکومت کو کن مشکلات کا سامنا ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ نے جموں کے عوام سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں 12 جولائی کی ریلی میں شرکت کریں تاکہ یہ تاثر ختم ہو کہ صرف کشمیر کے لوگ ہی ریاستی درجہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں کو بھی ریاستی درجہ کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس کی عدم موجودگی میں روزگار اور زمینوں کے معاملات میں یہاں کے لوگ زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

کٹھوعہ کے ہیرانگر میں نیشنل کانفرنس کے ایک پروگرام کے دوران پیش آئے مبینہ سیکورٹی رخنے کے بارے میں انہوں نے متعلقہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور پولیس کو ان کے دورے اور عوامی پروگرام کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، اس کے باوجود مقام کو مکمل طور پر محفوظ نہیں بنایا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کرنے والا شخص بی جے پی کا کارکن تھا اور اسے ان کے پروگرام میں خلل ڈالنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ سریندر چودھری نے کہا کہ یہ واقعہ پولیس کی سنگین غفلت کا نتیجہ ہے اور وہ اس سلسلے میں پولیس کے سربراہ اور لیفٹیننٹ گورنر سے متعلقہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور تھانہ انچارج کے خلاف کارروائی کی درخواست کریں گے۔

نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس جموں مخالف جماعت نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے دربار موو کی بحالی کے ذریعے جموں کی کمزور پڑتی معیشت کو سہارا دیا، جبکہ وہ خود ماضی میں شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز، جموں کے قیام کی تحریک میں پیش پیش رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande