
نئی دہلی، 11 جولائی (ہ س)۔ دہلی حکومت نے دارالحکومت کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی تحقیق اور تحفظ کی حوصلہ افزائی کے لیے ”آرکائیول ریسرچ فیلوشپ“ اور”آرکیالوجیکل ریسرچ فیلوشپ“ اسکیموں کو منظوری دی ہے۔ یہ اسکیمیں دہلی کی تاریخ کو تحقیق پر مبنی اور مستند شکل میں محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور بیرون ملک کے محققین اور آنے والی نسلوں تک اس کی وسیع رسائی کو بھی یقینی بنائیں گی۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ہفتہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ دہلی نہ صرف ملک کی راجدھانی ہے بلکہ ہزاروں سال کی تاریخ، ثقافت اور تہذیب کی متحرک وارثت بھی ہے۔ اس انمول ورثے کو آئندہ نسلوں تک محفوظ کرنا، سائنسی مطالعہ، منظم دستاویزات اور منتقلی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے دونوں فیلو شپ اسکیموں کو منظوری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آرکائیول ریسرچ فیلو شپ کے تحت ہر سال 15 فیلو کا تقرر ایک سال کی مدت کے لیے کیا جائے گا۔ منتخب محققین کو ان کے کام اور قابلیت کے لحاظ سے 25,000 سے 50,000 روپے ماہانہ تک کی فیلوشپ ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس سکیم کا مقصد آرکائیو ریسرچ کو فروغ دینا، ریکارڈ مینجمنٹ کو مضبوط بنانا، تاریخی دستاویزات کی ڈیجیٹلائزیشن کی حوصلہ افزائی کرنا اور محققین اور عام شہریوں کی اہم ریکارڈ تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق، اس اسکیم میں ریکارڈ مینجمنٹ، آرکائیول مواد کے تحفظ اور بحالی، ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن، معلومات اور ڈیٹا کی تقسیم، مائیکرو فلمنگ، ریپروگرافی، تحقیق اور اشاعت اورخاص طور پر کلاسیکی زبانوں جیسے اردو اور فارسی سے متعلق دستاویزات کے مطالعہ پر توجہ دی جائے گی ۔ یہ فیلو شپ مو¿رخین، آثار قدیمہ کے ماہرین، تحفظ کے ماہرین، ماہرین لسانیات اور ورثہ کے ماہرین کو ادارہ جاتی سطح پر تحقیق کرنے کے مواقع فراہم کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’آرکیالوجیکل ریسرچ فیلو شپ‘ کے تحت ہر سال 12 فیلو کا تقرر کیا جائے گا، جنہیں ایک سال کے لیے 25 ہزار سے 50 ہزار روپے ماہانہ فیلو شپ دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کا بنیادی مقصد دہلی کے مالامال آثار قدیمہ کے مقامات، تاریخی یادگاروں اور ثقافتی ورثے کا مطالعہ، تحفظ اور فروغ دینا ہے۔ اس اقدام سے تاریخ، آثار قدیمہ، فن تعمیر اور تحفظ، خاص طور پر دارالحکومت کی غیر معروف تاریخی یادگاروں سے متعلق تحقیق کو فروغ ملے گا۔ اس سے ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سیاحت کے شعبے کو بھی فروغ ملنے کی امید ہے۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ دونوں فیلو شپ اسکیمیں آرکائیو، آثار قدیمہ اور ورثہ کے تحفظ کے شعبوں میں تربیت یافتہ اور ہنر مند ماہرین کی نئی نسل تیار کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اس سے علمی تحقیق کو نئی سمت ملے گی اور دہلی کی دستاویزی اور آثار قدیمہ کے ورثے کے تحفظ کو ادارہ جاتی مضبوطی ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں اسکیموں کے لیے اہلیت، درخواست کے طریقہ کار، انتخاب کے طریقہ کار اور دیگر شرائط و ضوابط کے بارے میں تفصیلی رہنما خطوط متعلقہ محکموں کے ذریعے الگ الگ جاری کیے جائیں گے۔ آپریشنل رہنما خطوط کے جاری ہونے کے بعد، دونوں فیلوشپ اسکیموں کے جلد نافذ ہونے کی امید ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد