اے پی ایس کے اساتذہ کو تعلیمی معیار اور اصلاحی تدریس پر خصوصی توجہ دینے کی تلقین
علی گڑھ, 11 جولائی (ہ س)۔ ‘‘اساتذہ کسی بھی اسکول کی تعلیمی شناخت کی تشکیل میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور مستقل تعلیمی برتری صرف منظم منصوبہ بندی، ڈسپلن اور مسلسل تجزیہ کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے’’۔ ان خیالات کا اظہار علی گڑھ پبلک اسک
علی گڑھ پبلک اسکلو


علی گڑھ, 11 جولائی (ہ س)۔

‘‘اساتذہ کسی بھی اسکول کی تعلیمی شناخت کی تشکیل میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور مستقل تعلیمی برتری صرف منظم منصوبہ بندی، ڈسپلن اور مسلسل تجزیہ کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے’’۔ ان خیالات کا اظہار علی گڑھ پبلک اسکول میں تعلیمی تیاری کے موضوع پر منعقدہ ایک پروگرام میں ایس ٹی ایس اسکول، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرنسپل مسٹر فیصل نفیس نے کیا۔

انھوں نے اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت کی تعمیر میں اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ روزانہ تدریسی ڈائری مرتب کریں، جس میں درسی منصوبہ، کلاس کی سرگرمیوں اور طلبہ کی تعلیمی پیش رفت کا باقاعدہ اندراج ہو۔ یہ طریقہ تعلیمی منصوبہ بندی، نگرانی اور خود احتسابی کے لیے نہایت مؤثرذریعہ ہے۔

انہوں نے صبح کی اسمبلی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس میں طلبہ کی فعال شرکت سے قائدانہ صلاحیتیں، ابلاغی مہارتیں اور خود اعتمادی پروان چڑھتی ہیں۔ انہوں نے تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کلاس روم میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

تجزیہ کے نظام پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مسٹر فیصل نفیس نے کہا کہ امتحانات میں جانچ و تشخیص، تدریسی عمل کا ایک لازمی جزو ہے، لہٰذا اسے پوری دیانت داری اور احتیاط کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تعلیمی طور پر نسبتاً کمزور طلبہ کے لیے اصلاحی کلاس چلانے پر زور دیا تاکہ ان کی کمزوریوں کا ازالہ ہو اور وہ اپنے ہم جماعت طلبہ کے شانہ بشانہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔

اس سے قبل علی گڑھ پبلک اسکول کے ایسوسی ایٹ او ایس ڈی پروفیسر محمد اعظم خاں نے خیرمقدمی کلمات ادا کئے اور اس خطبے کو تدریسی معیار کو مزید بلند کرنے کی جانب ایک اہم اقدام قرار دیا۔

اسکول کے او ایس ڈی پروفیسر ایثار احمد رضوی نے کلمات تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست نے اساتذہ کو مفید رہنمائی فراہم کی ہے اور طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے ان کی ذمہ داریوں کو مزید اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ، طلبہ کی زندگی میں سب سے مؤثر نمونہ عمل ہوتے ہیں اور معاشرے کے مستقبل کی تشکیل میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔

اس موقع پر پراکٹر مسٹر ارشاد حسین، میڈیا انچارج ڈاکٹر فاطمہ زہرہ سمیت تدریسی و انتظامی عملے کے اراکین موجود تھے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande