بھوپال ماسٹر پلان پر دیشا میٹنگ میں ہنگامہ، کانگریس رکن اسمبلی میٹنگ سے باہر نکلے
بھوپال، 10 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے دیرینہ انتظار والے ماسٹر پلان کو لے کر جمعہ کے روز ضلع ترقیاتی تال میل اور نگرانی کمیٹی (دیشا) کی میٹنگ میں جم کر ہنگامہ ہوا۔ ماسٹر پلان نافذ نہیں ہونے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کانگریس رکن اسم
بھوپال ماسٹر پلان پر دیشا میٹنگ میں ہنگامہ


بھوپال ماسٹر پلان پر دیشا میٹنگ میں ہنگامہ


بھوپال، 10 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے دیرینہ انتظار والے ماسٹر پلان کو لے کر جمعہ کے روز ضلع ترقیاتی تال میل اور نگرانی کمیٹی (دیشا) کی میٹنگ میں جم کر ہنگامہ ہوا۔

ماسٹر پلان نافذ نہیں ہونے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کانگریس رکن اسمبلی عارف مسعود اور عاطف عقیل نے میٹنگ کی افادیت پر سوال کھڑے کیے۔ اس دوران پھندا جنپد پنچایت صدر پرمود سنگھ راجپوت سے ان کی تیکھی نوک جھونک ہو گئی۔ تنازعہ بڑھنے پر دونوں رکن اسمبلی میٹنگ کا بائیکاٹ کر کے باہر نکل گئے۔

میٹنگ کی صدارت رکنِ پارلیمنٹ آلوک شرما نے کی۔ ایجنڈے پر بحث کے دوران کانگریس رکن اسمبلی نے کہا کہ جب تک بھوپال کا نیا ماسٹر پلان نافذ نہیں ہوتا، تب تک ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے والی میٹنگوں کا متوقع جواز نہیں ہے۔ اسی دوران پھندا جنپد پنچایت صدر پرمود سنگھ راجپوت کی مداخلت پر دونوں رکن اسمبلی نے اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گفتگو رکنِ پارلیمنٹ سے ہو رہی ہے اور بیچ میں مداخلت مناسب نہیں ہے۔ اس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان تیکھی بحث شروع ہو گئی اور میٹنگ کا ماحول تقریباً دس منٹ تک کشیدہ رہا۔

ناراض کانگریس رکن اسمبلی نے کہا کہ اگر ان کی بات سنجیدگی سے نہیں سنی جانی ہے تو انہیں میٹنگ میں بلانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس کے بعد دونوں رکن اسمبلی میٹنگ چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ رکنِ پارلیمنٹ آلوک شرما نے انہیں روکنے اور بحث جاری رکھنے کی کوشش کی، لیکن وہ واپس نہیں لوٹے۔

میٹنگ کے بعد رکنِ پارلیمنٹ آلوک شرما نے کہا کہ بھوپال کی منظم اور طویل مدتی ترقی کے لیے ماسٹر پلان کا جلد نافذ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وہ جلد ہی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کر کے ماسٹر پلان کو نافذ کرانے کی گزارش کریں گے۔

میٹنگ میں اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کا طریقۂ کار بھی نشانے پر رہا۔ بی جے پی رکن اسمبلی بھگوان داس سبنانی نے کہا کہ بڑے بڑے تعمیراتی کام تو ہوئے، لیکن کئی احاطوں میں اب بھی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ انہوں نے تجارتی پلاٹوں کا سائز چھوٹا کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ان کی فروخت بڑھے گی اور پروجیکٹ کو زیادہ ریونیو ملے گا۔ میئر مالتی رائے نے اسمارٹ سٹی علاقے میں اسٹریٹ لائٹس کی شکایتوں کا وقت پر ازالہ نہیں ہونے کا مسئلہ اٹھایا۔ اس پر کلکٹر اور اسمارٹ سٹی بورڈ کے صدر پرینک مشرا نے الگ جائزہ میٹنگ کر کے تمام مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔

رکنِ پارلیمنٹ آلوک شرما نے کہا کہ مختلف محکموں کے درمیان تال میل کی کمی کی وجہ سے کام متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے پورے پروجیکٹ کے لیے ایک نوڈل ایجنسی تشکیل دینے کی تجویز دی۔ اس دوران کانگریس رکن اسمبلی عارف مسعود نے بھی بی جے پی رکن اسمبلی بھگوان داس سبنانی کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کے ذریعے بتائے گئے مسائل کا انتظامیہ کو سنجیدگی سے حل نکالنا چاہیے۔

میٹنگ میں بھوجپال ویٹ لینڈ اتھارٹی کی تشکیل کی تجویز بھی منظور کی گئی۔ تجویز کے مطابق ڈویژنل کمشنر کو اتھارٹی کا صدر بنایا جائے اور بھوپال و سیہور کے کلکٹر، ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور عوامی نمائندوں کو اس میں شامل کیا جائے۔ یہ تجویز ریاستی حکومت کو بھیجی جائے گی۔ ساتھ ہی بھوپال کو ویٹ لینڈ سٹی قرار دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande