
جموں, 10 جولائی (ہ س) قومی تحقیقاتی ایجنسی نے 1996 کے ایک مقدمے میں حریت کانفرنس کے چھ سرکردہ رہنماؤں کے خلاف جموں کی خصوصی عدالت میں چارج شیٹ پیش کر دی ہے۔ یہ مقدمہ سری نگر میں ایک جنازے کے جلوس کے دوران مبینہ ہنگامہ آرائی، پولیس اہلکاروں پر حملوں اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
ایجنسی کے مطابق یہ مقدمہ 17 جولائی 1996 کو پولیس تھانہ شیر گڑھی، سری نگر میں درج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں وزارتِ داخلہ کی ہدایت پر اپریل 2026 میں اس کی تحقیقات قومی تحقیقاتی ایجنسی کے سپرد کی گئیں۔
فردِ جرم میں شبیر احمد شاہ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون، محمد یعقوب وکیل ، جاوید احمد میر اور شکیل احمد بخشی کے نام شامل ہیں۔ ایجنسی نے بتایا کہ سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد یعقوب وکیل کے انتقال کے باعث ان کے خلاف کارروائی ختم ہو چکی ہے، تاہم فردِ جرم میں مبینہ سازش میں ان کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
قومی تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جنازے کے جلوس کے موقع پر ایک غیر قانونی اجتماع ہوا، جس کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملے کیے گئے، فائرنگ اور سنگ باری کے واقعات پیش آئے اور متعدد اہلکار زخمی ہوئے جبکہ سرکاری گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
ایجنسی کے مطابق ملزمان کے خلاف مجرمانہ سازش، اقدامِ قتل، فساد برپا کرنے، سرکاری ملازمین پر حملہ کرنے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
قومی تحقیقاتی ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تشدد ایک منظم اور پہلے سے تیار کی گئی مبینہ سازش کا حصہ تھا جس کا مقصد جنازے کے جلوس کو علیحدگی پسند نظریات کے فروغ، عوامی حمایت حاصل کرنے، بدامنی پیدا کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف لوگوں کو اکسانے کے لیے استعمال کرنا تھا۔
ایجنسی نے کہا ہے کہ مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر