
چنڈی گڑھ، 10 جولائی (ہ س)۔
آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے قومی ترجمان شکتی سنگھ گوہل نے کہا ہے کہ ایودھیا رام مندر میں چندے اور چڑھاوے میں مبینہ بے ضابطگیاں لاکھوں رام بھکتوں کے آستھا اور عقیدت اوراعتمادسے جڑا ہوا ہے ۔ غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ جمعہ کو چنڈی گڑھ میں ہریانہ کانگریس ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے گوہل نے کہا کہ کانگریس پارٹی بھگوان شری رام کا مکمل احترام کرتی ہے۔ کانگریس پارٹی کی طرف سے جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں وہ کسی مذہب یا عقیدے کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ ان کا تعلق رام بھکتوں کے عقیدے کے ساتھ مبینہ خیانت سے ہے۔
شکتی سنگھ گوہل نے الزام لگایا کہ رام مندر میں چندے اورچڑھاوے کی مبینہ چوری کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے بلکہ لاکھوں عقیدت مندوں کے عقیدے پر شدید دھچکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 40 دنوں میں 70 چوری کی وارداتیں سی سی ٹی وی کیمروں میں ریکارڈ کی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سرگرمی کافی عرصے سے منظم طریقے سے جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مندر کے افتتاح کے بعد سے مبینہ چوری کا کوئی صحیح ریکارڈ نہیں ہے، کیونکہ سی سی ٹی وی فوٹیج صرف 45 دنوں کے لیے محفوظ ہے اور اس کا بیک اپ نہیں لیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 80 لاکھ روپے کی وصولی کی حالیہ رپورٹس نے پورے معاملے پر مزید سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔
قومی ترجمان نے یہ بھی الزام لگایا کہ عقیدت مندوں کی طرف سے عطیہ کردہ قیمتی اشیاء کا کوئی شفاف ریکارڈ نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ ایس آئی ٹی تحقیقاتی رپورٹ کو فوری طور پر عام کیا جائے۔ رام مندر ٹرسٹ کو تحلیل کیا جائے۔ مبینہ گھپلے کے ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔ اس پورے معاملے کی سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں تحقیقات ہونی چاہیے۔ اس موقع پر ریاستی کانگریس کے صدر راو¿ نریندر سنگھ، شریک انچارج جتیندر بگھیل، خواتین کانگریس کی چیئرپرسن پرل چودھری، اور سوشل میڈیا کی چیئرپرسن مونیکا ڈمرا موجود تھیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ