
بھوپال/اندور، 10 جولائی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کی اندور پولیس کی جانب سے جمعرات کے روز کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری کے چھوٹے بھائی نانا پٹواری کو حراست میں لیے جانے کا معاملہ گرم ہو گیا ہے۔ حالانکہ دیر شام پوچھ گچھ کے بعد نانا پٹواری کو چھوڑ دیا گیا۔ وہیں، اب جمعہ کے روز دونوں بھائیوں نے ایک پریس کانفرنس کر کے پولیس اور ریاستی حکومت پر الزامات لگائے۔
پریس کانفرنس کے دوران نانا پٹواری نے عوامی طور پر تسلیم کیا کہ وہ تین سال پہلے ڈرگز کا نشہ کرتے تھے، لیکن ری ہیب سینٹر (بحالی مرکز) میں علاج کے بعد انہوں نے نشہ پوری طرح چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے اس پوری کارروائی کو سیاسی سازش قرار دیا۔ نانا پٹواری نے کہا کہ میری صرف اتنی سی غلطی ہے کہ میں کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری کا بھائی ہوں، اسی وجہ سے مجھے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈرگز معاملے میں گرفتار کیے گئے لوگوں سے ان کا کوئی تعلق یا لین دین نہیں ہے۔
نانا نے بتایا کہ وہ اپنی کار کی سروسنگ کرانے گئے تھے، تبھی پولیس انہیں اپنے ساتھ لے گئی۔ تھانے میں ان سے صرف نام پوچھا گیا اور حراست میں لینے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس پورے دن انہیں شہر میں ادھر ادھر گھماتی رہی اور دیر رات چھوڑ دیا۔ نانا پٹواری نے بتایا کہ ان کی گاڑی سنجے کوشل عرف رونی کے سروس سینٹر میں دھلتی ہے۔ یہاں گولو بھی کام کرتا ہے۔ پولیس نے ان سے سنجے کوشل اور عرفان کے بارے میں پوچھ گچھ کی، جو کانگریس کے کارکن ہیں اور انتخابات میں کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جس اسکارپیو گاڑی کا تذکرہ ہو رہا ہے، وہ سنجے کوشل عرف رونی کی ہے اور اس میں ملے کسی بھی سامان سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس دوران پی سی سی چیف جیتو پٹواری نے بھائی کا بچاو کرتے ہوئے حکومت کو گھیرا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی کا کسی بھی قسم کے ڈرگز نیٹ ورک یا اسمگلنگ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ حکومت پوری طرح سے سیاسی انتقام کے تحت کام کر رہی ہے اور اجین زمین گھوٹالے و بدعنوانی کے خلاف کانگریس کی جانب سے چھیڑی جانے والی تحریک سے ڈر کر اپوزیشن پر ذہنی دباو بنا رہی ہے۔
دراصل، اندور کی راجیندر نگر پولیس نے جمعرات کو نانا پٹواری کو حراست میں لیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ براون شوگر کے ساتھ پکڑے گئے دو ملزمان سے پوچھ گچھ میں نانا کا نام سامنے آیا تھا۔ تاہم، پوچھ گچھ کے بعد دیر رات انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس پورے معاملے پر جمعرات کو اندور کے ڈی سی پی نریندر سنگھ راوت نے پولیس کا موقف رکھتے ہوئے بتایا تھا کہ راجیندر نگر تھانہ پولیس نے ریت منڈی چوراہے پر واقع ڈی-مارٹ کے پاس سے دو ملزمان عرفان خان عرف گولو چندیری اور سنجے کوشل عرف رونی کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ تلاشی کے دوران ان کے پاس سے تقریباً 10 گرام براون شوگر برآمد ہوئی تھی۔ جب پولیس نے دونوں سپلائروں سے سخت پوچھ گچھ کی، تو انہوں نے اپنے بیانات میں نانا پٹواری اور مانو گنگوانی کا نام لیا۔
ڈی سی پی راوت نے بتایا کہ اس معاملے میں ملزمان کے موبائل فون کے کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) اور دیگر الیکٹرانک و ڈیجیٹل شواہد کی پولیس باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے۔ جانچ میں جس کا کردار سامنے آئے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ نانا پٹواری کا پرانا مجرمانہ ریکارڈ بھی رہا ہے۔ ان کے خلاف اقدامِ قتل سمیت کل 10 مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ سال 2023 کے اسمبلی انتخابات کے دوران بھی پولیس نے انہیں ایک پرانے معاملے میں مفرور ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن