
ممبئی ، 10 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے وزیر تعمیرات عامہ شیویندر سنگھ راجے بھوسلے نے جمعہ کو قانون ساز اسمبلی میں کہا کہ ریاست میں محکمہ تعمیرات عامہ کے دائرۂ اختیار میں آنے والی سڑکوں کے دونوں جانب شجرکاری کے دوران مقامی آب و ہوا اور جغرافیائی حالات سے مطابقت رکھنے والی دیسی درختوں کی اقسام کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف درخت لگانے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ان کی حفاظت، نگہداشت اور بقا کو بھی یکساں اہمیت دی جائے گی۔ اس مہم میں ماحولیات کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیموں کی فعال شمولیت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔اسمبلی میں وقفۂ سوالات کے دوران رکن اسمبلی سریش دھاس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتا ہوا درجہ حرارت، بے قاعدہ بارش، زیر زمین پانی کی سطح میں کمی اور حیاتیاتی تنوع کو لاحق خطرات ریاست کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ ان حالات میں ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ ماحولیات کے تحفظ کو بھی یکساں ترجیح دینا ناگزیر ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے مقصد سے محکمہ تعمیرات عامہ کے ہر سڑک منصوبے میں شجرکاری کو لازمی جز بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق درخت لگانا محض ایک مہم نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے تئیں ہماری ذمہ داری ہے، اس لیے حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ لگائے گئے پودوں کی باقاعدہ دیکھ بھال، حفاظت اور نگہداشت ہو تاکہ وہ زندہ رہیں اور مکمل درخت بن سکیں۔وزیر بھوسلے نے بتایا کہ ریاست میں قومی شاہراہوں، ریاستی شاہراہوں، اہم ضلعی سڑکوں اور محکمہ تعمیرات عامہ کے تحت آنے والی دیگر سڑکوں کے کنارے مختلف مرحلوں میں شجرکاری کی جائے گی۔ ہر پودے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ نگرانی، معائنہ اور جوابدہی کا مؤثر نظام بھی قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات کا تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہریوں، مقامی خود اختیاری اداروں اور مختلف سماجی تنظیموں کی فعال شراکت سے ہی سرسبز اور پائیدار مہاراشٹر کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے۔اس موضوع پر اسمبلی میں ہونے والی بحث میں سریش دھاس کے علاوہ ہیمنت اوگلے، ہریش پمپل، اجے چودھری، شیکھر نکم، بھاسکر جادھو اور دیگر اراکین نے بھی حصہ لیا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے