آئی جی ایل، ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اور احساس این جی او کے درمیان سہ فریقی معاہدے پر دستخط
نئی دہلی، 10 جولائی (ہ س): اندرا پرستھا گیس لمیٹڈ (آئی جی ایل)، ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اور احساس این جی او کے درمیان جمعہ کو دہلی سکریٹریٹ میں ''کیچ دی رین'' اقدام کے تحت دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی موجودگی میں ایک اہم سہ فریقی مفاہمت کی یا
پانی


نئی دہلی، 10 جولائی (ہ س): اندرا پرستھا گیس لمیٹڈ (آئی جی ایل)، ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اور احساس این جی او کے درمیان جمعہ کو دہلی سکریٹریٹ میں 'کیچ دی رین' اقدام کے تحت دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی موجودگی میں ایک اہم سہ فریقی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

اس معاہدے کے تحت دہلی کے 75 سی ایم شری اسکولوں میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا منصوبہ لاگو کیا جائے گا۔ آئی جی ایل کے سی ایس آر اقدام کے تحت نافذ کیے گئے اس پروجیکٹ میں اسکول کیمپس میں بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کے موجودہ نظاموں کا آڈٹ کرنا، ان کی تزئین و آرائش، اور چھتوں پر بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے کے نئے نظام کی تنصیب شامل ہے۔ طلباءاور اساتذہ کے لیے پانی کے تحفظ اور ماحولیاتی آگاہی کے پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ پانی کا تحفظ صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی بنیاد بھی ہے۔ دہلی حکومت تعلیم اور ماحولیاتی تحفظ کے انضمام پر عمل پیرا ہے۔ یہ اقدام سرکاری اسکولوں میں پانی کے پائیدار انتظام کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد دارالحکومت کے سرکاری سکولوں کو اتنا بہترین بنانا ہے کہ مستقبل میں والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں کی بجائے سرکاری سکولوں میں داخل کروانے کو ترجیح دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کے کیچ دی رین وژن کو مو¿ثر طریقے سے نافذ کرنے کی طرف یہ ایک اہم قدم ہے اور اسی سوچ کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت نے اسکولوں سے شروعات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ یہ اقدام صرف 75 اسکولوں تک محدود نہیں رہے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں، اس ماڈل کو تقریباً 800 دہلی کے سرکاری اسکولوں تک پھیلایا جائے گا، جس سے دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی اور زمینی پانی کے تحفظ کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت، صنعت اور سماجی تنظیموں کے درمیان موثر شراکت داری کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس سے نہ صرف زمینی پانی کے تحفظ کو تقویت ملے گی بلکہ طلباء میں آبی وسائل کے تئیں حساسیت اور ذمہ داری کا احساس بھی پیدا ہوگا۔

پروجیکٹ کے تحت 75 منتخب سی ایم شری اسکولوں میں بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے کے موجودہ نظاموں کا تکنیکی آڈٹ کیا جائے گا۔ مزید ، پرانے واٹر ہارویسٹنگ ڈھانچے اور زیرزمین پانی کی بحالی کی جائے گی۔ نئے چھتوں پر بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے کے نظام، بشمول پائپ لائنز، فلٹر، ٹینک، اور بورویل، اسکول کے کیمپس میں نصب کیے جائیں گے اور یہ منصوبہ ایک سال کے لیے دیکھ بھال اور تکنیکی مدد بھی فراہم کرے گا۔ ہر اسکول میں ایک جدید ترین، کم لاگت چھت پر بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا یونٹ تعمیر کیا جائے گا۔

یہ اقدام غیر سرکاری تنظیم احساس کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا۔ تنظیم اسکولوں میں حفاظتی معیارات اور تعمیراتی معیار کو یقینی بنائے گی اور ساتھ ہی اس منصوبے کے کامیاب آپریشن کو یقینی بنائے گی۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اسکول کیمپس میں ضروری اجازتیں اور انتظامی معاونت فراہم کرے گا اور پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد ان سسٹمز کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہوگا۔ آئی جی ایل پورے منصوبے کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گا۔

اس منصوبے میں بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کے بنیادی ڈھانچے کا معائنہ اور بحالی کے ساتھ ساتھ ہر اسکول میں پانی کے تحفظ کے لیے خصوصی ورکشاپس کا انعقاد شامل ہوگا۔ یہ ورکشاپ طلباءاور اساتذہ کو پانی کے استعمال،زیر زمین پانی کی بحالی اور ماحولیاتی پائیداری کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کریں گی۔ یہ منصوبہ 12 ماہ کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور جیو ٹیگ شدہ تصویروں، استعمال کے سرٹیفکیٹس اور باقاعدہ تشخیص کے ذریعے پیشرفت کی نگرانی کی جائے گی۔

اس پروجیکٹ سے ہر اسکول میں تقریباً دو لاکھ لیٹر زمینی پانی کو سالانہبحال کرنے کی امید ہے، جس سے پانی کو محفوظ کرنے اور دارالحکومت میں زیر زمین پانی کی سطح کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ اس پائلٹ ماڈل کے نتائج کی بنیاد پر، دہلی حکومت بارش کے پانی کو جمع کرنے کے نظام کو دارالحکومت کے دیگر سرکاری اور میونسپل کارپوریشن آف دہلی اسکولوں میں مرحلہ وار طریقے سے پھیلانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے یقین ظاہر کیا کہ یہ اقدام پانی کے تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری کے میدان میں دہلی کو ایک نئی سمت دے گا اور آنے والے برسوں میں دارالحکومت کو مزید سبز اور پائیدار بنانے میں اہم رول ادا کرے گا۔

وزیر تعلیم آشیش سود نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی ہدایت پر سی ایم شری ودیالیوں کو باقاعدہ اسکولوں سے الگ کرنے کی مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ سی ایم شری اسکولوں کو نہ صرف ڈیجیٹل طور پر فعال کیا جائے گا، بلکہ طلباء کو قومی تعلیمی پالیسی، زندگی کی سائنس اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) سے متعلق مضامین کے ساتھ ہم آہنگ ایک جامع نصاب بھی فراہم کیا جائے گا۔ کیچ دی رین مہم اس جامع نقطہ نظر کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اقدام طلباء میں پانی کے تحفظ اور ماحولیات کے تئیں ذمہ داری کا احساس پیدا کرے گا، ساتھ ہی انہیں ایک پائیدار طرز زندگی اپنانے کی ترغیب دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اس تعلیمی سال کے آغاز تک دارالحکومت کے تمام 1000 سرکاری اسکولوں کو زیرو ویسٹ کیمپس بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande