
حیدرآباد ،10 جولائی (ہ س)۔
تلنگانہ کے چیف سکریٹری کے.رام کرشنا راؤ نے موسی ریورفرنٹ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے پہلے مرحلے (فیز-I) کے کاموں کا جائزہ لیااورسیلاب سے بچاؤ،سیوریج ٹریٹمنٹ،لینڈ ڈیولپمنٹ اورمربوط بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی پر خصوصی توجہ دی۔ چیف سکریٹری نے موقع پرجاکر پروجیکٹ سے جڑے اہم مقامات کا معائنہ کیا۔ ان میں عثمان ساگر،نارسنگی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ(ایس ٹی پی)سائٹ اورگاندھی سروور پروجیکٹ کاعلاقہ شامل ہیں، جوریاستی حکومت کی ندی کی بحالی اوراربن ریزیلینس کی پہل کا حصہ ہیں۔ انہوں نے پروجیکٹ کونافذ کرنے کے سلسلے میں موسی ریورفرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ،حیدرآبادمیٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈاوردیگرمتعلقہ اداروں کے افسران کے ساتھ تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔اس جائزے میں سیلاب کے انتظام(فلڈ مینجمنٹ)کے اقدامات، سیوریج ٹریٹمنٹ کے بنیادی ڈھانچے کے انضمام،زمین کی ترقی کی تیاریوں اور کاریڈور کی سطح پربنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی جیسے موضوعات پرغورکیا گیا۔ چیف سکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ موسی ندی کی طویل مدتی پائیداری اورماحولیاتی بحالی(ایکولوجیکل ریسٹوریشن)کویقینی بنانے کے ساتھ ساتھ حیدرآباد کومستقل فائدہ پہنچانے کے لیے باہمی تال میل کے ساتھ نفاذ،سائنسی منصوبہ بندی اورماحولیاتی و تکنیکی اصولوں کی سختی سے پابندی ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ ایم آر ڈی سی ایل اورحیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی موسی اور ایسی ندیوں کے درمیان، گاندھی سروورپران کے سنگم کے علاقے کے لیے ایک الگ ماسٹرپلان تیارکریں، تاکہ آمد و رفت کی سہولت بہترہوسکے اورندی کے کنارے پرمبنی پائیدارشہری ترقی کو فروغ مل سکے۔ حکام نے کہا کہ ایم آر ڈی سی ایل جائزے کے دوران دی گئی تجاویز کو شامل کرے گا اور پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کے تحت کاموں کی رفتارکوتیزکرےگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق