نجف گڑھ فائرنگ کیس کا مفرور ملزم ’خنجر ‘ گرفتار،تین ماہ سے فرارتھا
نئی دہلی، 10 جولائی (ہ س)۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ (اے جی ایس) نے بدنام زمانہ نجف گڑھ فائرنگ اور قتل کی کوشش کے ایک ملزم وویک عرف خنجر (22) کو گرفتار کیا ہے، جو تین ماہ سے مفرور تھا۔ ملزم پولیس سے بچنے کے لیے مسلسل اپنے ٹھکانے بدل رہا تھا، لیکن ت
نجف گڑھ فائرنگ کیس کا مفرور ملزم ’خنجر ‘ گرفتار،تین ماہ سے فرارتھا


نئی دہلی، 10 جولائی (ہ س)۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ (اے جی ایس) نے بدنام زمانہ نجف گڑھ فائرنگ اور قتل کی کوشش کے ایک ملزم وویک عرف خنجر (22) کو گرفتار کیا ہے، جو تین ماہ سے مفرور تھا۔ ملزم پولیس سے بچنے کے لیے مسلسل اپنے ٹھکانے بدل رہا تھا، لیکن تکنیکی نگرانی، مخبر نیٹ ورک، اور مسلسل فیلڈ آپریشنز کے ذریعے، کرائم برانچ نے اسے دوارکا سیکٹر 10 میٹرو اسٹیشن کے قریب سے پکڑ لیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری سے اقدام قتل کے اس کیس کی تفتیش کو نیا رخ ملے گا اور اس کے جرائم پیشہ نیٹ ورک کے بارے میں بھی اہم معلومات حاصل ہونے کی امید ہے۔کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ہرش اندورا نے جمعہ کو بتایا کہ وویک عرف خنجر، جو کہ دھرم پورہ، نجف گڑھ کے رہنے والا ہے، کے خلاف نجف گڑھ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر نمبر 1892026 کے تحت تعزیرات ہند کی دفعہ 109(1)3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وہ واقعے کے بعد سے مفرور تھا اور گرفتاری سے بچنے کے لیے مسلسل اپنی جگہیں بدل رہا تھا۔

پولیس کے مطابق 23 اپریل 2026 کی رات تقریباً 11 بجے شکایت کنندہ سنجے ملک عرف سنجو روشن گارڈن میں اپنے جاننے والے آیوش کے گھر سو رہا تھا۔ اسی دوران آیوش کی بھتیجی نے اسے بتایا کہ دو نوجوان اس کے چچا کے ساتھ مارپیٹ کررہے ہیں۔ جب سنجے باہر آیاتو اس نے علاقے کے بدمعاش گورو عرف مسالے والا اور پرنس متل آیوش کے ساتھ مارپیٹ کررہے ہیں۔ سنجے نے مداخلت کرنے کی کوشش کی تو گورو نے مبینہ طور پر پستول نکالا اور اس پر گولی چلا دی۔ گولی سنجے کی ٹانگ میں لگی جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ واردات کے بعد ملزمان موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے۔ سنجے کے اہل خانہ نے اسے فوری طور پر بہادر گڑھ کے برہما شکتی سنجیونی اسپتال پہنچایا، جہاں اس کا علاج کیا گیا۔ متاثرہ کے بیان کی بنیاد پر نجف گڑھ تھانے میں قتل کی کوشش اور اسلحہ ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

ہندستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande