وقف بورڈ میں غیر مسلم ارکان کی تقرری کے خلاف تاج المساجد کے باہر مظاہرہ
جمعہ کی نماز کے بعد کالی پٹی باندھ کر احتجاج درج کرایا، تقرری واپس لینے کا مطالبہ، وزیر اعلیٰ کے خلاف نعرے بازی بھوپال، 10 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں دو غیر مسلم ارکان کی تقرری کے خلاف جمعہ کے روز دارالحکومت بھوپال کی تاج المساجد
تاج المساجد کے باہر مظاہرہ


جمعہ کی نماز کے بعد کالی پٹی باندھ کر احتجاج درج کرایا، تقرری واپس لینے کا مطالبہ، وزیر اعلیٰ کے خلاف نعرے بازی

بھوپال، 10 جولائی (ہ س)۔

مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں دو غیر مسلم ارکان کی تقرری کے خلاف جمعہ کے روز دارالحکومت بھوپال کی تاج المساجد کے باہر جمعہ کی نماز کے بعد مسلمانوں نے مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے کالی پٹی باندھ کر اپنا احتجاج درج کرایا اور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی تصویر والے پوسٹر لے کر تقرری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران وزیر اعلیٰ کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔ پولیس کی موجودگی میں مظاہرہ پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔

مظاہرین کے ہاتھوں میں ایسے پوسٹر تھے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ وقف ترمیمی قانون کے بعد مدھیہ پردیش پہلا صوبہ ہے، جہاں وقف بورڈ میں دو غیر مسلم ارکان کو شامل کیا گیا ہے۔ پوسٹروں پر ’’نان مسلموں کی انٹری بین کرو‘‘، ’’وقف میں تاناشاہی نہیں چلے گی‘‘ اور ’’وقف ہماری عقیدت کا مرکز ہے‘‘ جیسے نعرے لکھے تھے۔

مظاہرے میں شامل عباس خان نے کہا کہ وہ جمعہ کی نماز ادا کرنے آئے تھے اور باہر مظاہرہ دیکھ کر اس میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وقف بورڈ میں تقرر کیے گئے دونوں غیر مسلم ارکان کی تقرری فوری طور پر منسوخ کی جائے۔ مظاہرے میں شامل دیگر لوگوں نے الزام لگایا کہ حکومت وقف سے متعلق معاملات میں یکطرفہ فیصلہ لے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقف مسلمانوں کے مذہبی اور سماجی اداروں سے جڑا موضوع ہے، اس لیے اس سے متعلق فیصلے کمیونٹی کے جذبات کو دھیان میں رکھ کر لیے جانے چاہئیں۔

کچھ مظاہرین نے مسلم مذہبی قیادت کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے پر تمام ذمہ دار علماء اور مذہبی عہدیداروں کو کھل کر اپنی رائے رکھنی چاہیے تھی۔ مظاہرین نے انتباہ دیا کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہیں دی گئی تو تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

مظاہرے کے دوران کچھ لوگوں نے شہر قاضی کے حالیہ رخ پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقف بورڈ کے نئے صدر کے استقبال کے بجائے اس مسئلے پر احتجاج درج کرایا جانا چاہیے تھا۔ مظاہرین نے کہا کہ سماج کے ایک طبقے میں اس کو لے کر ناراضگی ہے۔

مدھیہ پردیش وقف بورڈ کی نئی تشکیل کے بعد سے اس فیصلے کی مختلف مسلم تنظیموں کی جانب سے مسلسل مخالفت کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے آل انڈیا مسلم تہوار کمیٹی نے مظاہرہ کر کے صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کے نام میمورنڈم سونپا تھا۔ نکاح خواں قاضی محمد معاذ خان نے بھی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔جمعیۃ علماء سمیت کئی مسلم تنظیموں نے بھی اس فیصلے پر اعتراض درج کرایا ہے۔ جمعہ کا مظاہرہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی مانا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande