جموں و کشمیر میں دگڈول اور پنتھیال کے درمیان 3.5 کلومیٹر طویل سرنگ کا راستہ تیار
نئی دہلی، یکم جولائی (ہ س) رامبن ضلع میں رامسو کے قریب 810 میٹر لمبا وایاڈکٹ اور جموں و کشمیر میں نیشنل ہائی وے 44 پردگڈول سے پنتھیال کو جوڑنے والا 3.5 کلو میٹر طویل ''اے ٹی-03'' ٹنل روٹ اب تیار ہے۔ 680 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے، یہ پروج
سرنگ


نئی دہلی، یکم جولائی (ہ س) رامبن ضلع میں رامسو کے قریب 810 میٹر لمبا وایاڈکٹ اور جموں و کشمیر میں نیشنل ہائی وے 44 پردگڈول سے پنتھیال کو جوڑنے والا 3.5 کلو میٹر طویل 'اے ٹی-03' ٹنل روٹ اب تیار ہے۔ 680 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے، یہ پروجیکٹ رامبن-بانہال اسٹریٹ کے سب سے زیادہ لینڈ سلائیڈنگ کے شکار حصے کو بائی پاس کریں گے، جس سے وادی کشمیر سے محفوظ اور تیز رفتار ہر موسم کے رابطے کو یقینی بنایا جائے گا۔

مرکزی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز نتن گڈکری نے 'ایکس' (سابقہ ٹویٹر) پر شیئر کیا کہ یہ پروجیکٹس سفر کے وقت کو کم کریں گے، سڑک کی حفاظت میں اضافہ کریں گے اور سال بھر سیاحوں، مقامی مسافروں، دفاعی گاڑیوں، مال بردار ٹرکوں اور ضروری سامان کی ہموار نقل و حرکت میں سہولت فراہم کریں گے۔ انہوں نے اسے انجینئرنگ کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔

جموں سری نگر قومی شاہراہ کے فور لیننگ پروجیکٹ کا زیادہ تر کام مکمل ہو چکا ہے۔ رامبن اور بانہال کے درمیان تقریباً 35 کلو میٹر کے راستے میں سرنگوں، پلوں اور وائڈکٹس کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔ امرناتھ یاترا شروع ہونے سے پہلے ان میں سے کچھ اہم حصوں کو ٹریفک کے لیے کھولنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

امرناتھ یاترا کا فاصلہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً تین کلومیٹر کم ہو جائے گا، جس سے رامسو، ماروگ، پنتھیال اور مگرکوٹ جیسے چیلنجنگ حصوں میں راحت ملے گی۔ اس فلائی اوور کے ذریعے عازمین کے کھیپ کو جھنڈی دکھا کر منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا جائے گا۔ یاتریوں کو یاترا کے دوران د گڈول اور پنتھیال کے درمیان تقریباً 3.5 کلومیٹر لمبی ٹنل نمبر 4 (ٹی-4) کے ذریعے مزید راحت ملے گی۔ اس سرنگ کی تعمیر تقریباً مکمل ہو چکی ہے اور امرناتھ یاتریوں کے پہلے جتھے کی گاڑیوں کے گزرنے پر اسے ٹریفک کے لیے کھولنے کی تجویز ہے۔

پنتھیال اور خونی نالہ جیسے لینڈ سلائیڈ کے شکار علاقوں کو بائی پاس کرتے ہوئے، یہ سرنگیں اس اہم راہداری کے ساتھ ہمہ موسمی رابطے کو یقینی بنائیں گی۔ اس سے نہ صرف مقامی لوگوں اور سیاحوں کو راحت ملے گی بلکہ امرناتھ یاتریوں کے سفر کو پہلے سے کہیں زیادہ ہموار، محفوظ اور یادگار بنا دیا جائے گا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande