
نئی دہلی، یکم جولائی (ہ س)۔
مرکزی حکومت نے دہلی کے وسنت کنج میں دوارکا ایکسپریس وے کو نیلسن منڈیلا مارگ سے جوڑنے والی چھ لین والی سڑک ٹنل کی تعمیر کو منظوری دے دی ہے۔ اس 8.1 کلو میٹر کے پروجیکٹ کی تخمینہ لاگت 6969.67 کروڑ روپے ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی نے بدھ کو این ایچ-248بی بی کو جوڑنے والے این ایچ-148اے ای کی تجویز کو منظوری دی۔ یہ پروجیکٹ نیشنل ہائی ویز (اصل) اسکیم کے تحت ہائبرڈ اینوئیٹی موڈ میں بنایا جائے گا۔
مجوزہ سرنگ رنگپوری رج سے گزرتی ہے، شیو مورتی انٹرچینج سے شروع ہوتی ہے اور نیلسن منڈیلا مارگ اور مہیپال پور-چھتر پور روڈ کے چوراہے سے پہلے ختم ہوتی ہے۔
اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے نیشنل میڈیا سینٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ پروجیکٹ دوارکا ایکسپریس وے کو جنوبی دہلی کے وسنت کنج سے جوڑ کر مغربی اور جنوبی دہلی کے درمیان تیز رفتار رابطہ فراہم کرے گا۔ اس سے گروگرام، دوارکا، آئی جی آئی ایئرپورٹ، اور مغربی دہلی سے جنوبی دہلی تک ٹریفک کو بھی فائدہ ہوگا۔
زیر زمین جڑواں ٹیوب سرنگ زمینی سطح کی بھیڑ کو کم کرتی ہے اور سدرن رج کے جنگلاتی علاقے کی حفاظت کرتی ہے۔ سرنگ کا 1.98 کلو میٹر کا حصہ رج کے نیچے سے گزرتا ہے۔
این ایچ اے آئی نے ایمس اور مہیپال پور کے درمیان ایک بلند راہداری کی بھی تجویز پیش کی ہے۔ یہ لنک ٹنل مغربی دہلی کو بارہ پلا ایلیویٹڈ روڈ سے جوڑے گی، جو مغربی دہلی اور جنوبی دہلی، مشرقی دہلی، غازی آباد اور نوئیڈا کو جوڑے گی۔
اس چوراہے پر بھیڑ کو کم کرنے کے لیے نیلسن منڈیلا مارگ کے ساتھ ایک ایلیویٹڈ روڈ (1.8 کلومیٹر) کی بھی تجویز ہے۔ موجودہ فلائی اوور کے ساتھ چھتر پور سے مہیپال پور تک ایک اضافی فلائی اوور کی بھی تجویز ہے۔
ویشنو کے مطابق، نیشنل ہائی وے کی ترقی کے ہر لین-کلومیٹر کی ترقی سے اوسطاً 264 دن کا براہ راست روزگار اور اوسطاً 55 دن کا بالواسطہ روزگارپیدا ہوتا ہے۔ اس پروجیکٹ سے تقریباً 7.54 لاکھ دن براہ راست اور 9.80 لاکھ دن بالواسطہ روزگار پیدا ہوگا۔ یہ منصوبہ مجوزہ ہائی سپیڈ کوریڈور کے ساتھ معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے روزگار کے اضافی مواقع بھی پیدا کرے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ