
شمال مشرق کو جلد ہی ملے گا بون میرو ٹرانسپلانٹ اور کینسر کا جدید علاج
نئی دہلی، یکم جولائی (ہ س)۔
آسام کے گوہاٹی میں ملک کے شمال مشرقی ریاستوں کا سب سے بڑا استپال ڈاکٹر بھونیشور بورووا کینسر انسٹی ٹیوٹ (بی بی سی آئی) میں جلد ہی شروع ہونے والی 292بیڈ والی جدید ترین پیڈیاٹرک اوربچہ و بالغ ہیماٹولیمفائیڈ کینسر یونٹ شمال مشرق کے ہزاروں خاندانوں کے لئے زندگی بدلنے والی ہے ۔ دہلی، ممبئی یا ویلور جانے کی مجبوری تقریباً ختم ہو جائے گی ۔
عالمی معیار کی سہولیات جیسے بون میرو ٹرانسپلانٹ، جدید کیموتھراپی، خصوصی بچوں کے کینسر کا علاج، اور جدید آئی سی یو اب گھر کے قریب دستیاب ہوں گے۔ شمال مشرق میں سب سے زیادہ بوجھ والے بلڈ کینسر ، لیو کیمیا اور لمفوما سے نبرد آزما مریضوں کے لئے یہ یونٹ ایک نئی امید اور راحت کی علامت بن کر ابھر رہی ہے۔
پردھان منتری ڈیولپمنٹ انشیٹیو فار نارٹھ ایسٹ (پی ایم ڈیوائن ) منصوبہ کے تحت شمال مشرقی خطہ کی ترقی کی وزارت کے تعاون سے ترقی ہو رہی اس نصوے کا کام اب آخری مرحلے میں ہے۔ تعمیر کام 78.90 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور فنشنگ کا کام جاری ہے۔ پروجیکٹ کے لیے ورک آرڈر 31 مئی 2023 کو جاری کیا گیا تھا۔ جون تک 33.91 کروڑ روپے کی رقم جاری کی جا چکی تھی۔ انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ کا ہدف ہے کہ یہ سہولت مریضوں کو مقررہ مدت کے اندر فراہم کر دی جائے۔
بی بی سی آئی کے پروفیسر سرجیکل آنکولوجی اور ڈائریکٹر (ایڈمنسٹریشن) ڈاکٹر وبھوتی بھوشن بورٹھاکر نے ہندوستھان سماچار کو بتایا کہ یہ پروجیکٹ شمال مشرق میں کینسر کے علاج میں ایک بڑی تبدیلی لائے گا۔ نیا یونٹ بچوں اور بڑوں دونوں میں خون کے کینسر کے علاج کے لیے مخصوص سہولیات فراہم کرے گا۔ بون میرو ٹرانسپلانٹ کی سہولیات کے آغاز سے شمال مشرق کے مریضوں کو علاج کے لیے دوسری ریاستوں کا سفر کرنے کی ضرورت کافی حد تک کم ہو جائے گی۔ روبوٹک سرجری، مالیکیولر ڈائیگناسٹک اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو بھی مرحلہ وار انسٹی ٹیوٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ مرکز پورے شمال مشرقی اور مشرقی ہندوستان کے لیے ایک اہم حوالہ مرکز بن جائے گا۔
پروجیکٹ کی سب سے اہم خصوصیت بون میرو ٹرانسپلانٹ کی سہولت ہے۔ فی الحال، خون کے کینسر اور خون سے متعلق بعض سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو اس طرح کے علاج کے لیے ملک کے منتخب مراکز کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ شمال مشرق میں اس سہولت کی دستیابی مریضوں کو بروقت علاج فراہم کرے گی اور علاج کی کامیابی کی شرح کو بہتر بنائے گی۔
شمال مشرقی ہندوستان میں کینسر کا بوجھ ملک کے دیگر خطوں کی نسبت زیادہ ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں کینسر کے سالانہ واقعات فی 100,000 آبادی میں تقریباً 90 سے 120 کیسز ہیں، جب کہ شمال مشرقی ریاستوں میں، یہ تعداد فی 100,000 آبادی پر 220 سے 270 کیسز تک پہنچ جاتی ہے۔ ہر سال شمال مشرقی خطے میں کینسر کے 45,000 سے زیادہ نئے مریضوں کی تشخیص ہوتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ تمباکو کا استعمال، سپاری کا استعمال، غذائی عادات اور دیگر سماجی و جغرافیائی عوامل خطے میں کینسر کے زیادہ بوجھ میں معاون ہیں۔
آئی سی ایم آر کے اعداد و شمار کے مطابق، سکم کے تقریباً 95 فیصد، ناگالینڈ کے 58 فیصد، منی پور کے 16 فیصد، اور میگھالیہ کے 13 فیصد مریضوں نے کینسر کے خصوصی علاج کے لیے شمال مشرقی علاقے سے باہر کا سفر کیا ہے۔ خون کے کینسر اور بچوں کے کینسر کے معاملات میں یہ انحصار اور بھی زیادہ واضح ہے۔ مریضوں کو اکثر ملاقاتوں، سفر اور علاج کے آغاز کے لیے طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ہسپتال اور نئی سہولت مقامی باشندوں کے لیے ایک اعزاز سے کم نہیں ہے۔
شمال مشرقی خطہ کی ترقی کی وزارت کا یہ پروجیکٹ پی ایم ڈیوائن اسکیم کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔ مودی حکومت نے مرکزی بجٹ 2022-23 میں پرائم منسٹر ڈیولپمنٹ انیشیٹو-نارتھ ایسٹ (پی ایم-ڈیوائن) اسکیم کا اعلان کیا۔ اس اسکیم کے لیے ابتدائی طور پر 1500 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ اس اسکیم کو شمال مشرقی خطہ کی ترقی کی وزارت اور شمال مشرقی کونسل کے ذریعے لاگو کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد شمال مشرقی ریاستوں میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو فروغ دینا ہے جس سے براہ راست لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ بی بی سی آئی کا یہ منصوبہ اس اسکیم کے تحت صحت کے اہم ترین منصوبوں میں سے ایک ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ