
علی گڑھ, 07 جون (ہ س)۔
معروف شاعرِ اہلِ بیت، استاد الشعراء مرحوم سید اظہر حسنین زیدی کی یاد میں ان کے چہلم کے موقع پر امام بارگاہ حسینیہ زہرا، کیلا نگر، علی گڑھ میں ایک پُروقار اور روح پرور مجلسِ چہلم منعقد ہوئی۔ اس موقع پر علماء، شعراء، ادباء، ذاکرین، نوحہ خواں حضرات اور مومنین کی کثیر تعداد نے شرکت کر کے مرحوم کی علمی، ادبی اور مذہبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مجلس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد مقررین نے مرحوم سید اظہر حسنین زیدی کی زندگی، ان کی علمی بصیرت، ادبی عظمت اور عشقِ اہلِ بیتؑ سے سرشار خدمات پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ مرحوم نہ صرف ایک ممتاز شاعرِ اہلِ بیت اور استاد الشعراء تھے بلکہ اردو ادب اور دینی شعور کے فروغ میں بھی ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی محبتِ اہلِ بیتؑ کے پیغام کو عام کرنے اور نئی نسل کی فکری و ادبی تربیت کے لیے وقف کر دی تھی۔
مجلس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ سید عقیل الغروی کے فرزند مولانا سید محمد سجاد الغروی (لندن) نے سورۂ یٰسین کے حوالے سے بصیرت افروز خطاب کیا۔ انہوں نے قرآن مجید کی تعلیمات کو زندگی کا حصہ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قرآن انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے اور اس پر عمل ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔
مولانا سید محمد سجاد الغروی نے مرحوم سید اظہر حسنین زیدی کی شخصیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان نابغۂ روزگار شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنے قلم اور فن کے ذریعے اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو عوام تک مؤثر انداز میں پہنچایا۔ ان کی شاعری عقیدت، معرفت، فکری گہرائی اور اخلاص کا حسین امتزاج ہے جو آج بھی سامعین و قارئین کے دلوں کو متاثر کرتا ہے۔
مجلس کی نظامت ڈاکٹر بصیر الحسن وفا نقوی نے انجام دی جبکہ ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی کی نگرانی میں تمام انتظامات خوش اسلوبی سے مکمل ہوئے۔
اس موقع پر معروف نوحہ خواں پروفیسر مہتاب حیدر نقوی اور خورشید عصری نے اپنے پرسوز کلام کے ذریعے مجلس کو غم و عقیدت کی فضا سے معطر کر دیا، جبکہ سید نذر حسنین زیدی (مظفر نگر) نے سوز خوانی پیش کر کے حاضرین کو اشک بار کر دیا۔
مقررین نے مرحوم کے اہم شعری مجموعوں ’’نقوشِ مودت‘‘ (2004)، ’’کہکشاںِ مودت‘‘ (2012)، ’’فیضانِ مودت‘‘ (2019) اور زیرِ طبع مجموعہ ’’عرفانِ مودت‘‘ کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے انہیں محبتِ اہلِ بیتؑ، دینی شعور اور اخلاقی اقدار کے فروغ میں اہم ادبی سرمایہ قرار دیا۔
تقریب کے دوران مرحوم کے منتخب اشعار اور ان کے آخری ایام کے چند پُراثر کلام بھی پیش کیے گئے، جنہیں سن کر محفل میں رقت آمیز کیفیت طاری ہو گئی۔ حاضرین نے محسوس کیا کہ مرحوم اپنی شاعری اور افکار کی صورت میں آج بھی اہلِ دل کے درمیان زندہ ہیں۔
مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ سید اظہر حسنین زیدی کی ادبی و فکری میراث آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی اور اردو ادب و منقبت نگاری کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔
مجلس کے اختتام پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔ شرکاء نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور تمام پسماندگان خصوصاً سید سجاد حسنین زیدی و اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم نصیب فرمائے۔
آخر میں منتظمین نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم سید اظہر حسنین زیدی کا ادبی سرمایہ، ان کی فکر اور محبتِ اہلِ بیتؑ کا پیغام ہمیشہ زندہ رہے گا اور آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ