ڈیجیٹل دور میں اخبارات کی فروخت میں نمایاں کمی ،اخباری فروخت کنندگان معاشی بحران سے دوچار
لاتور، ممبئی ، 7 جون (ہ س) ڈیجیٹل دور کے بڑھتے اثرات، موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے باعث مطبوعہ اخبارات کی فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں اخبارات فروخت کرنے والوں کو شدید معاشی مشکلات
MEDIA MAHA LATUR NEWSPAPERS


لاتور، ممبئی ، 7 جون (ہ س) ڈیجیٹل دور کے بڑھتے اثرات، موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے باعث مطبوعہ اخبارات کی فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں اخبارات فروخت کرنے والوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کا ذریعہ معاش خطرے میں پڑ گیا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب دن کا آغاز اخبار بینی سے ہوتا تھا اور شہروں سے لے کر دیہات تک اخبارات کی بڑے پیمانے پر فروخت ہوتی تھی۔ تاہم اسمارٹ فون کے بڑھتے استعمال کے باعث اب لوگوں کو خبریں فوری طور پر موبائل پر دستیاب ہو جاتی ہیں، جس کے سبب مطبوعہ اخبارات کی طلب میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ اس کا براہ راست اثر اخبار فروشوں، ایجنٹوں اور تقسیم کے پورے نظام پر پڑ رہا ہے۔

اخبارات کی فروخت گھٹنے سے فروخت کنندگان کے کمیشن میں کمی آئی ہے، جبکہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، نقل و حمل کے اخراجات اور دیگر مالی بوجھ نے اس پیشے کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ نتیجتاً کئی اخبار فروش متبادل روزگار اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جبکہ بعض افراد نے یہ کاروبار مکمل طور پر ترک کر دیا ہے۔

اخبار فروشوں کا کہنا ہے کہ مطبوعہ اخبارات کی ساکھ اور اعتبار آج بھی برقرار ہے۔ اخبارات ہی وہ ذریعہ ہیں جو قارئین تک تحقیق شدہ، مستند اور غیر جانبدار خبریں پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق قارئین کو چاہیے کہ وہ مطبوعہ اخبارات کو ترجیح دیں تاکہ اس شعبے کو سہارا مل سکے اور اس سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار محفوظ رہ سکے۔

ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ اگرچہ اخبارات کی فروخت میں کمی آئی ہے، لیکن مستند معلومات کے ایک قابل اعتماد ذریعے کے طور پر مطبوعہ اخبارات کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق مطالعے کی ثقافت کو زندہ رکھنے اور معیاری صحافت کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ مطبوعہ صحافت اپنا مؤثر کردار مستقبل میں بھی ادا کرتی رہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande