
بھوپال، 7 جون (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے لال گھاٹی علاقے میں اتوار کی صبح ایک تین منزلہ کمرشل بلڈنگ میں خوفناک آگ لگ گئی۔ بلڈنگ میں 6 چھوٹے بڑے ریسٹورنٹ چلتے ہیں، جو آگ کی زد میں آ گئے۔ آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عمارت سے اٹھتا ہوا کالا دھواں تقریباً 5 کلومیٹر دور تک نظر آہا۔ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی 8 گاڑیاں اور 3 واٹر ٹینکر موقع پر پہنچ گئے اور تقریباً ایک گھنٹے کی سخت مشقت کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔
عمارت کے گارڈ نے بتایا کہ صبح تقریباً 7 بجے بلڈنگ کی کھڑکیوں سے دھواں نکلتا نظرآیا ۔ شروعات میں اسے کچن سے اٹھنے والا عام دھواں سمجھا گیا، لیکن کچھ دیر بعد جب آگ کے شعلے دکھائی دینے لگے تو فوراً فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی۔ اس کے بعد علاقے میں افرا تفری مچ گئی۔ آگ تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے پوری عمارت دھوئیں سے بھر گئی تھی۔
فائر کنٹرول روم سے ملی ابتدائی معلومات کے مطابق، آگ کی شروعات ریسٹورنٹ کے گراونڈ فلور پر بنے کچن سے ہوئی تھی اور پھر دوسری منزل تک پہنچ گئی۔ پوری عمارت میں دھواں بھرنے اور راستہ تنگ ہونے کی وجہ سے فائر فائٹرز کو اندر داخل ہونے میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اندر پہنچنے میں آ رہی مشکلوں کو دیکھتے ہوئے فائر فائٹرز نے ہائیڈرولک کٹر کی مدد سے عمارت کی دیوار توڑی اور اندر پہنچ کر آگ بجھانے کی مہم شروع کی۔ فی الحال آگ لگنے کی وجوہات کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ شارٹ سرکٹ یا گیس لیکیج کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کی جانچ کی جا رہی ہے۔
واقعے کے دوران ریسٹورنٹ کے کچن میں رکھے چار کمرشل ایل پی جی سلینڈر سب سے بڑی تشویش کا باعث تھے۔ فائر فائٹرز نے خطرہ مول لیتے ہوئے سب سے پہلے سلینڈروں کو محفوظ باہر نکالا۔ اگر وقت رہتے یہ کارروائی نہ ہوتی تو بڑا دھماکہ ہو سکتا تھا اور نقصان کئی گنا بڑھ سکتا تھا۔
جس عمارت میں آگ لگی، اس کے بیسمنٹ میں ’’باپو کی کٹیا‘‘ ریسٹورنٹ چل رہا ہے، جبکہ گراونڈ فلور پر ڈومینووز کا آوٹ لیٹ سمیت کئی دیگر دکانیں موجود ہیں۔ آگ سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ راحت کی بات یہ رہی کہ واقعے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
فی الحال فائر بریگیڈ اور انتظامیہ کی ٹیم موقع پر موجود ہے اور آگ لگنے کی وجوہات کی جانچ کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن