شملہ: نابالغ سے چھیڑ چھاڑ کا ملزم گرفتار، جلوس نکالنے پر ہندو تنظیم کے دو کارکن بھی گرفتار
شملہ، 7 جون (ہ س) ۔ شملہ میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ کے مرکزی ملزم کو پولس نے گرفتار کر لیا ہے۔ وہیں تحقیقات کے دوران ہندو تنظیموں سے وابستہ دو لیڈروں کو بھی مبینہ طور پر دو دیگر مسلم نوجوانوں کو بھیڑ میں لے جانے، سنجولی بازار میں ا
شملہ


شملہ، 7 جون (ہ س) ۔ شملہ میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ کے مرکزی ملزم کو پولس نے گرفتار کر لیا ہے۔ وہیں تحقیقات کے دوران ہندو تنظیموں سے وابستہ دو لیڈروں کو بھی مبینہ طور پر دو دیگر مسلم نوجوانوں کو بھیڑ میں لے جانے، سنجولی بازار میں ایک جلوس کی قیادت کرنے اور ان پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیاہے۔

پولیس کے مطابق 5 جون کو 16 سالہ لڑکی کے اہل خانہ نے خواتین پولیس اسٹیشن شملہ میں شکایت درج کرائی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ خاندان کے جاننے والے ایک نوجوان نے لڑکی کو اپنے مقام پربلاکر اس کے ساتھ نامناسب سلوک کیا۔ شکایت کے بعد، خواتین کے پولیس اسٹیشن، شملہ نے تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 75 اور جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ (پی او سی ایس او) ایکٹ کی دفعہ 8 کے تحت مقدمہ درج کیا اور تحقیقات کا آغاز کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران شواہد اکٹھے کرنے اور حقائق کی تصدیق کے بعد 22 سالہ عبید کو گرفتار کیا گیا۔ ملزم کو ضابطے کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تفتیش جاری ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ تمام حقائق کی غیر جانبداری سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

اس واقعہ کے درمیان سنجولی بازار میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب کچھ لوگوں نے مبینہ طور پر دو دیگر مسلم نوجوانوں کو گھیر لیا اور ان کی پریڈ بھی کرائی۔ پولیس کے مطابق یہ افراد عظیم مرزا اور اس کے دوست آفتاب تھے۔ پولیس نے کہا کہ نوجوان کی شکایت اور بیان میں ان دونوں افراد کے خلاف کوئی الزام نہیں لگایا گیاتھا، حالانکہ اس معاملے میں ان کے کردار کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

سنجولی پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کے مطابق عظیم مرزا نے شکایت کی کہ کچھ لوگ ایک نابالغ لڑکی کو اپنے ساتھ لیکر ان کی درزی کی دکان میں داخل ہوئے اور اس سے شناخت کے حوالے سے سوالات پوچھے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ جب لڑکی نے شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا تو اس کے ساتھ مارپیٹ کی گئی، دکان میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی تاریں توڑ دی گئیں اور اس کی فلم بندی کرنے کی کوشش کی گئی۔ شکایت کے مطابق، عظیم اور آفتاب کو بعد میں دکان سے باہر سڑک پر لے جایا گیا، جہاں ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور نعرے بازی کی گئی۔

اس معاملے میں پولیس نے سنجولی پولس اسٹیشن میں آئی پی سی کی دفعہ 333، 115(2)، 351(2)، 191(2)، 190، 324(4)، 196(1) اور 304 کے تحت مقدمہ درج کیا اور شملہ کی ہندو تنظیم ہندو سنگھرش سمیتیسے وابستہ مدن ٹھاکر (43) اور وجے شرما (47) کو گرفتار کیا۔ دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں دیگر افراد کے کردار کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

شملہ کے ایس ایس پی گورو سنگھ نے بتایا کہ نابالغ لڑکی کی شکایت کی بنیاد پر درج کیس کی حساسیت اور غیر جانبداری کے ساتھ تفتیش کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا، افراد پر حملہ کرنا، ہجومی تشدد کا سہارا لینا یا پولیس کی تفتیش میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایس ایس پی نے مزید کہا کہ دستیاب شواہد اور حقائق کی بنیاد پر جو بھی جرم میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

یادرہے کہ گرفتار مدن ٹھاکر اور وجے شرما کے نام اس سے قبل بھی زیربحث سنجولی مسجد تنازعہ کے دوران سامنے آئے تھے۔

ستمبر 2024 میں سنجولی مسجد پر ایک بڑا احتجاج شروع ہوا، جس میں بڑی تعداد میں لوگ سنجولی بازار میں جمع ہوئے۔ مظاہرین نے مسجد کے اندر مبینہ غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ اٹھایا اور غیر قانونی حصے کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ میونسپل کورٹ نے سنجولی مسجد کے غیر قانونی حصے کو منہدم کرنے کا حکم دیا جسے ڈسٹرکٹ کورٹ نے برقرار رکھا۔ سنجولی مسجد سے متعلق معاملہ فی الحال ہماچل پردیش ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande