
ممبئی ، 7 جون (ہ س) ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر محکمہ محصولات کی خفیہ ایجنسی (ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلیجنس) کی جانب سے کی گئی بڑی کارروائی میں بین الاقوامی سونا اسمگلنگ کے ایک مبینہ نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا ہے۔ ہفتہ کی علی الصبح انجام دی گئی اس کارروائی میں پانچ کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سونا اور دیگر مشتبہ اشیا ضبط کی گئیں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ ایک عہدیدار سمیت مجموعی طور پر چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد ممبئی سمیت ریاست کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
محکمہ محصولات کی خفیہ ایجنسی کے افسران کو ممبئی ہوائی اڈے کے اطراف چند افراد کی سرگرمیاں مشتبہ محسوس ہو رہی تھیں۔ موصولہ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر افسران نے 6 جون کی رات تقریباً ڈھائی بجے ہوائی اڈے کے علاقے میں جال بچھایا اور مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان کی تلاشی اور تفصیلی پوچھ گچھ کی۔ اس دوران بڑی مقدار میں سونا برآمد کیا گیا۔ حکام کے مطابق ضبط شدہ سونے کی بازار قیمت پانچ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
اس معاملے میں بی جے پی کی مزدور تنظیم کے اجیت آچریکر کے علاوہ روہت کمار سنگھ، سنتوش سبھاش، شمیم اللہ شاہ، حمید لیبری ف خان اور خلیل محمد قاسم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تمام گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ جاری ہے اور اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک کا سراغ لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اجیت آچریکر نے چند ماہ قبل ہی بی جے پی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی تھی۔ مہاراشٹر بی جے پی کے صدر رویندر چوہان اور سہاس ماٹے کی موجودگی میں منعقدہ ایک تقریب میں وہ پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔ بعد ازاں انہیں اکھل بھارتیہ کامگار کرمچاری سنگھٹن کے سیکریٹرئ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اسی وجہ سے سونا اسمگلنگ کے اس معاملے میں ایک سیاسی جماعت کے عہدیدار کا نام سامنے آنے کے بعد سیاسی بحث میں شدت آ گئی ہے۔
محکمہ محصولات کی خفیہ ایجنسی کے سینئر افسران کے مطابق ابتدائی جانچ سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ معاملہ محض سونا اسمگلنگ تک محدود نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم بین الاقوامی گروہ کے سرگرم ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ اس نیٹ ورک کے بیرون ملک روابط، مالی لین دین اور رابطہ کاری کی مکمل چین کا پتہ لگانے کے لیے تفتیش تیز کر دی گئی ہے۔
تفتیشی ایجنسیاں اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ بیرون ملک موجود کن افراد یا گروہوں کے ذریعے یہ مبینہ اسمگلنگ نیٹ ورک چلایا جا رہا تھا۔ حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات جنگی بنیادوں پر جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے