
تہران،05 جون (ہ س)۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے ہونے والی بات چیت کسی معاہدے تک نہ پہنچنے کے باوجود رکی نہیں ہے... اور ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ رابطہ مسلسل قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ خامنہ ای کی ہدایات حکومت تک بروقت پہنچ رہی ہیں۔ یہ بیان ان دعوؤں کی بالواسطہ تردید ہے جو امریکی انتظامیہ اور بعض امریکی حکام کی جانب سے کیے گئے تھے کہ سپریم لیڈر اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان رابطے میں دشواری ہے اور جوابات کی وصولی میں وقت لگتا ہے۔عباس عراقچی نے زور دیا کہ سیاسی قیادت خامنہ ای کی ہدایات پر سختی سے عمل پیرا ہے، جس کا مطلب ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا تسلسل انہی کی ہدایات کا نتیجہ ہے، حالانکہ کل ہی مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل پر ایرانیوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی ٹیلی ویژن نے جمعرات کی شام بتایا کہ ایران اور سلطنت عمان بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ کا انتظام سنبھالیں گے اور اس کے انتظام کے بارے میں پڑوسی ممالک کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔مارچ میں اپنے والد علی خامنہ ای کی وفات کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے ہیں۔ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے پہلے دن ہی ہلاک ہو گئے تھے۔ مجتبیٰ کی صحت اور ان کے اقتدار پر گرفت کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے، تاہم حکومت اور فیصلہ سازی میں ان کے شامل ہونے کے اشارے بڑھ رہے ہیں۔جنیوا انسٹی ٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز کے ماہر فرزان ثابت کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ مجتبیٰ اپنے دفتر کی مدد سے بشمول امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اہم موقف... پالیسیوں کی عمومی سمت کی نگرانی کر رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ سیکیورٹی اور صحت کی صورتحال کے باعث ان کی ذاتی شمولیت ان کے والد کے مقابلے میں کم ہے، لیکن حالات میں بہتری کے ساتھ ان کا کردار بڑھنے کی توقع ہے۔اٹاوا یونیورسٹی کے پروفیسر تھوما جونو کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا کردار واضح نہیں ہے اور اس مرحلے پر ان کا اپنے والد جیسا اثر و رسوخ ہونا بعید از قیاس ہے۔ تاہم وہ ملک کے با اثر افراد اور پاسدارانِ انقلاب کی اہم شخصیات کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔جونو کے مطابق اقتدار بظاہر پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈروں اور چند سینئر سیاست دانوں کی ایک غیر رسمی کمیٹی کے ہاتھوں میں ہے، جس میں مذاکراتی وفد کے سربراہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی شامل ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan