
ہندوستان-بنگلہ دیش کے درمیان سرحدی تنازعہ گرمایا، بی ایس ایف-بی جی بی نے فلیگ میٹنگ کی
ڈھاکہ، 5 جون (ہ س)۔ بنگلہ دیش اور ہندوستان کے درمیان سرحدی تنازعہ ایک بار پھر گرما گیا ہے۔ بنگلہ دیش نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان نے 4 جون کو 28 لوگوں کو بنگلہ دیش کی سرحد میں دھکیلنے کی کوشش کی۔ ’بارڈر گارڈ بنگلہ دیش‘ (بی جی بی) نے کہا کہ چاپائی نواب گنج کے گومستاپور ذیلی ضلع کے بنگا باڑی سرحدی علاقے میں ہندوستان کی بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کی اس کوشش کو اس نے ناکام بنا دیا۔
پروتھوم الو اخبار کی رپورٹ کے مطابق، چار ہزار کلومیٹر سے زیادہ لمبی اور پیچیدہ جغرافیائی صورتِ حال والی اس بین الاقوامی سرحد پر مستعدی بڑھاتے ہوئے بی جی بی نے کہا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس موضوع پر جمعرات کی دوپہر بنگا باڑی سرحد پر بی جی بی اور بی ایس ایف کے درمیان باقاعدہ بات چیت (فلیگ میٹنگ) ہوئی۔ دونوں فریقوں نے کہا کہ اس مسئلے پر اپنے اعلیٰ حکام سے بات کر کے اس کا حل نکالا جائے گا۔
میٹنگ کے بعد بی جی بی کی 16ویں بٹالین کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد عارف الاسلام معصوم نے صحافیوں کو یہ جانکاری دی۔ کمانڈر نے بتایا کہ اس سے پہلے بدھ کی علی الصبح بی ایس ایف کے جوانوں نے 28 لوگوں کو بنگلہ دیش میں دھکیلنے کی کوشش کی تھی۔ بی جی بی کے احتجاج کی وجہ سے یہ کوشش ناکام رہی۔ ان 28 لوگوں میں 12 مرد، 10 خواتین اور 6 بچے شامل ہیں۔ وہ فی الحال سرحد پر زیرو لائن (نو مینز لینڈ) پر رکے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان 28 لوگوں کو کسی بھی صورت میں بنگلہ دیشی سرحد میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔
کمانڈر عارف الاسلام نے بتایا کہ بنگا باڑی سرحد کے کچھ حصے ایسے ہیں، جہاں سے لوگوں کو دھکیل کر اندر بھیجنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ بی ایس ایف کے جوان ایسا ہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے سرحد پر پہلے سے ہی اپنی چوکسی اور مستعدی بڑھا دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس حساس مسئلے پر 8 سے 11 جون کے درمیان نئی دہلی میں دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کی سطح کی میٹنگ ہونے والی ہے۔ میٹنگ میں سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے موضوع پر بات چیت ہونے کی امید ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن