

بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی رہنما سیلینا حیات کو دیر رات جیل سے رہا کیا گیا
ڈھاکہ، 5 جون (ہ س)۔ معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ کی قدآور رہنما اور نارائن گنج سٹی کارپوریشن کی سابق میئر سیلینا حیات ’آئیوی‘ کو جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں گرفتار ہوئیں سیلینا کی رہائی سابق اسپیکر شیریں شارمن چودھری کے بعد عوامی لیگ کے کسی بڑے رہنما کو ملنے والی دوسری بڑی راحت ہے۔
پروتھوم الو اخبار کی رپورٹ کے مطابق، سیلینا حیات کو ایک سال سے زیادہ وقت تک جیل میں رہنا پڑا۔ انہیں بدھ کی رات تقریباً 10.15 بجے غازی پور کی قاسم پور سینٹرل خاتون جیل سے رہا کیا گیا۔ رات قریب 12.30 بجے وہ نارائن گنج کے دیوبھوگ علاقے میں واقع اپنے گھر پہنچیں۔ ان کی رہائی کی خبر ملنے کے بعد رات 11.00 بجے سے ہی ان کے گھر کے باہر رشتہ دار، حامی اور بہی خواہ جمع ہونے لگے۔ طویل عرصے تک جیل میں بند رہنے کے بعد ان کی واپسی پر لوگوں نے راحت کی سانس لی۔
سیلینا نے گھر پہنچنے پر سب سے پہلے ملک کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا، ’’میں عدلیہ کی بہت شکر گزار ہوں اور حکومت کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں۔ مجھے امید ہے کہ ایک ایسی انسانی حکومت بنے گی جو سب کو ساتھ لے کر چلے گی۔ جیل میں میری جیسی کئی خواتین ہیں جو بے گناہ ہیں۔ مجھے امید ہے کہ حکومت ان کے ساتھ بھی ہمدردی دکھائے گی۔‘‘
پولیس نے سیلینا آئیوی کو پچھلے سال 9 مئی کی علی الصبح نارائن گنج میں واقع ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد ان پر کل 12 مقدمات دکھائے گئے۔ ان میں 2024 کی تفریق مخالف تحریک سے منسلک قتل کے تین مقدمات اور اقدامِ قتل کے دو مقدمات شامل تھے۔ اگرچہ انہیں کئی معاملات میں کئی بار ضمانت مل گئی تھی، لیکن نئے درج مقدمات میں انہیں بار بار گرفتار دکھایا جاتا رہا۔
ہائی کورٹ نے گزشتہ مہینے 30 اپریل کو انہیں سدھیر گنج پولیس اسٹیشن میں درج قتل کے دو مقدمات میں عبوری ضمانت دی تھی۔ اس فیصلے سے ان کی رہائی کا راستہ صاف ہوا۔ بدھ کی رات رہائی کے وقت ان کے وکیل اور خاندان کے اراکین جیل کے گیٹ پر پہنچے اور ان کے باہر نکلتے ہی سبھی جذباتی ہو گئے۔ سیلینا 2003 سے 2011 تک نارائن گنج کی میئر رہی ہیں۔ 2011 کے انتخابات میں آئیوی نے عوامی لیگ کے بااثر اور باغی رہنما شمیم عثمان کو 1,00,000 سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔
اپنے پورے سیاسی کریئر کے دوران انہوں نے نارائن گنج میں دہشت گردی اور مجرمانہ تشدد کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی۔ آئیوی کے گھر پہنچنے پر رشتہ داروں، بہی خواہوں اور حامیوں نے ان کا استقبال کیا۔ ’شونتراش نرمل ٹوکی منچ‘ کے کنوینر رفیع الرحمن ربی، نارائن گنج پریس کلب کے صدر ابو سعید مسعود، وکیل ضیاء الاسلام اور شاہین محمود نے انہیں گلدستے پیش کیے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن