
بیروت،04جون(ہ س)۔لبنان اور اسرائیل نے بدھ کی شام واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد نازک جنگ بندی پر عمل درآمد اور ایسے لبنانی سکیورٹی زونز کے قیام پر اتفاق کیا ہے، جہاں حزب اللہ کی موجودگی نہیں ہوگی۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق جنگ بندی کا نفاذ اس شرط سے مشروط ہے کہ حزب اللہ مکمل طور پر فائر بندی کرے اور دریائے لیتانی کے جنوب میں واقع علاقوں سے اپنے تمام عناصر کو واپس بلائے۔بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریق ''تجرباتی سکیورٹی زونز'' قائم کرنے پر بھی متفق ہوئے ہیں، جہاں لبنانی فوج کو علاقے کا مکمل اور خصوصی کنٹرول حاصل ہوگا اور کسی غیر ریاستی مسلح گروہ کو سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔مشترکہ بیان کے مطابق ان اقدامات سے امن و سلامتی کے ایک جامع معاہدے کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اسرائیل اور لبنان کے مستقبل کے تعلقات کا فیصلہ دونوں خودمختار حکومتیں کریں گی، جبکہ کسی بھی ریاست یا غیر ریاستی فریق کی جانب سے لبنان کے مستقبل کو یرغمال بنانے کی کوشش مسترد کی گئی ہے۔دونوں ممالک نے اعتماد سازی اور دیگر زیر التوا مسائل کے حل کے لیے براہ راست مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔بیان کے مطابق لبنان اور اسرائیل 22 جون سے شروع ہونے والے ہفتے میں سیاسی اور سکیورٹی امور سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے، تاکہ ایک جامع معاہدے تک پہنچا جا سکے۔واشنگٹن میں منگل اور بدھ کو امریکی حکام کی سرپرستی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کا چوتھا دور منعقد ہوا۔حزب اللہ ان مذاکرات اور اسرائیل کی جانب سے مطالبہ کیے جانے والے اس کے غیر مسلح ہونے کے مطالبے کو مسترد کرتا ہے۔اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے مذاکرات کے پہلے روز کے اختتام پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر کہا تھا کہ ''سیاسی اور سکیورٹی دونوں محاذوں پر پیش رفت جاری ہے ''۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز امید ظاہر کی کہ واشنگٹن میں جاری لبنانی۔اسرائیلی مذاکرات لبنان میں سکیورٹی سے متعلق ایک ''لائح? عمل ''کی تشکیل پر منتج ہوں گے۔ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا: ہم امید کرتے ہیں کہ آج ہم ایک مشترکہ بیان اور ایک ایسے لائح? عمل پر اتفاق کر سکیں گے ،جو لبنان میں امن و سلامتی کے قیام کی راہ ہموار کرے، اور جو حزب اللہ اور اس کے نقصان دہ اثر و رسوخ سے آزاد ہو۔مارکو روبیو نے منگل کے روز سینیٹ میں ایک اور سماعت کے دوران کہا تھا کہ اگر حزب اللہ رکاوٹ نہ بنتی تو لبنان اور اسرائیل کل ہی امن معاہدہ کر سکتے تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan