امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جنگی اختیارات پر روک لگائی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جنگی اختیارات پر روک لگائی واشنگٹن، 4 جون (ہ س)۔ امریکی کانگریس کے ایوان زیریں ’’ایوانِ نمائندگان‘‘ (ہاوس آف ریپریزنٹیٹوز) نے بدھ کے روز 208-215 ووٹوں سے ایک متوازی تجویز منظور کر کے صدر ڈونلڈ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔ فوٹو: انٹرنیٹ میڈیا


امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جنگی اختیارات پر روک لگائی

واشنگٹن، 4 جون (ہ س)۔ امریکی کانگریس کے ایوان زیریں ’’ایوانِ نمائندگان‘‘ (ہاوس آف ریپریزنٹیٹوز) نے بدھ کے روز 208-215 ووٹوں سے ایک متوازی تجویز منظور کر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جنگ کرنے کے اختیارات پر روک لگا دی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کی اس تجویز کی چار ریپبلکن ارکان اوہائیو کے نمائندے وارین ڈیوڈسن، پنسلوانیا کے برائن فٹزپیٹرک، مشیگن کے ٹام بیریٹ اور کینٹکی کے تھامس میسی نے بھی حمایت کی۔

اے بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران یا اس کی فوج یا حکومت کے کسی بھی حصے کے خلاف جارحانہ کارروائی میں امریکی مسلح افواج کا استعمال تب تک بند کر دینا چاہیے، جب تک کہ جنگ کا باقاعدہ اعلان یا طاقت کے استعمال کا حق دینے والا قانون منظور نہ ہو جائے۔ ایوانِ نمائندگان سے منظور شدہ یہ تجویز اب سینیٹ میں جائے گی۔ سینیٹ بھلے ہی اس کی حمایت کر دے، لیکن ایک متوازی تجویز میں قانون جتنا وزن نہیں ہوتا اور اسے صدر کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اس پر صدر کے ویٹو کا حق نافذ ہوتا ہے۔

ووٹنگ کے بعد ہاوس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ گریگری میکس نے صحافیوں سے کہا، ’’کانگریس نے آج آئین کی پاسداری کی ہے۔ ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں نے کہا ہے کہ اب بہت ہو چکا۔ اب اس جنگ کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اب صدر کے لیے امریکی عوام کو یہ بتانے کا وقت ہے کہ ہم اس جنگ میں کیوں شامل ہوئے۔‘‘ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ چوتھا موقع ہے جب ہاوس میں ڈیموکریٹس کی قیادت والے ایران جنگی اختیارات کی تجویز پر ووٹنگ ہوئی ہے۔

ووٹنگ سے پہلے اسپیکر مائیک جانسن نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ اس وقت انتظامیہ اور کمانڈر ان چیف سے بات چیت کرنے کا حق چھین لینا ایک انتہائی خطرناک قدم ہوگا۔‘‘ وائٹ ہاوس کے ایک اہلکار نے کہا کہ یہ تجویز چھ ریپبلکن ارکان کی غیر موجودگی کی وجہ سے منظور ہوئی ہے۔ اس اہلکار نے مزید کہا، ’’صدر ٹرمپ کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ہماری قومی سیکورٹی کا تحفظ جاری رکھیں گے اور ساتھ ہی کانگریس کے تئیں پوری طرح شفاف بھی رہیں گے۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande