
سپول، 30 جون (ہ س) ۔ بہار کے سپول ضلع کے ویرپور تھانہ علاقہ کے تحت بنیلی پٹی پنچایت کے گیدارماری وارڈ نمبر 5 میں پیر کے روز پراتھنا سبھا کو لے کر کشیدگی پھیل گئی۔مقامی لوگوں نے نیپال سے تعلق رکھنے والے چار افراد پر الزام لگایا کہ وہ لوگوں کو مذہبی لالچ کے ذریعے عیسائیت اختیار کرنے کا لالچ دے رہے ہیں۔ اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور تمام افراد کو پوچھ گچھ کے لیے تھانے لے گئی۔ اس معاملے کی تحقیقات فی الحال جاری ہے۔
گاؤں والوں کے مطابق گیدارماری کے رہنے والے کشندوو رام کے گھر پراتھنا سبھا ہو رہی تھی جس میں تقریباً 30 سے40 لوگ موجود تھے۔ پراتھنا کی اطلاع ملتے ہی آس پاس کے لوگ وہاں جمع ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا۔ بعد میں پولیس کو مطلع کیا گیا اور ویرپور تھانہ میں شکایت درج کرکے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ سرحدی علاقوں میں طویل عرصے سے اس طرح کے اجتماعات ہوتے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ لوگوں کو مذہبی خطبات اور بہتر زندگی، بیماری سے نجات اور معاشی بہتری کے وعدے دے کر دوسرے مذاہب میں تبدیل ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
حالانکہ آزادانہ طور پر ان الزامات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ لوگوں کے مطابق نیپال کے سپتاری ضلع سے ایک چار رکنی ٹیم پیر کے روز بھانٹا باڑی کے راستے بھیم نگر پہنچی اور پھر بنیلی پٹی کے لیے روانہ ہوئی۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ٹیم پہلے سے رابطے میں خاندانوں کے لئے پراتھنا کر رہی تھی۔ اس دوران ملزم فریق نے تمام دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا واحد مقصد سماجی خدمت اور روحانی پیغامات ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ لوگ پراتھنا میں رضاکارانہ طور پر شرکت کرتے ہیں اور کسی پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جاتا ہے۔ ویرپور تھانہ انچارج سنجے داس نے بتایا کہ موصولہ درخواست کی بنیاد پر تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔بنیادی حقائق کی تصدیق کی جا رہی ہے، دستیاب شواہد اور نتائج کی بنیاد پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی فریق کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔
ہندوستھا ن سماچار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan