پولیو بیداری مہم کے دوران پوسٹر وائرل ہونے کے بعد تنازعہ
جموں, 30 جون (ہ س) ضلع راجوری میں محکمہ صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے پولیو بیداری مہم کے دوران استعمال ہونے والا ایک پوسٹر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ پوسٹر میں مبینہ طور پر پاکستان کے قومی صحت ادارے کا لوگو اور پولیو فر
پولیو بیداری مہم کے دوران پوسٹر وائرل ہونے کے بعد تنازعہ


جموں, 30 جون (ہ س) ضلع راجوری میں محکمہ صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے پولیو بیداری مہم کے دوران استعمال ہونے والا ایک پوسٹر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ پوسٹر میں مبینہ طور پر پاکستان کے قومی صحت ادارے کا لوگو اور پولیو فری پاکستان کا نعرہ درج ہونے پر محکمہ نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اتوار کو جموں و کشمیر بھر میں منعقدہ انٹینسیفائیڈ پلس پولیو امیونائزیشن مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے ساتھ عوامی بیداری کے لیے مختلف پوسٹرز بھی جاری کیے گئے۔ اسی دوران بلاک میڈیکل آفیسر کنڈی کے دفتر سے جاری ایک آگاہی پوسٹر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس میں مبینہ طور پر پاکستان کے قومی صحت ادارے کا لوگو اور پولیو فری پاکستان کا نعرہ موجود تھا۔

پوسٹر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف سوالات اٹھائے گئے، جس کے بعد محکمہ صحت و خاندانی بہبود نے فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیا۔ چیف میڈیکل آفیسر راجوری نے انکوائری کے احکامات جاری کرتے ہوئے یہ معلوم کرنے کی ہدایت دی ہے کہ مذکورہ پوسٹر کس طرح تیار ہوا، کس کی منظوری سے جاری کیا گیا اور سوشل میڈیا تک کیسے پہنچا۔محکمہ کا کہنا ہے کہ عوامی صحت سے متعلق حساس مہمات میں اس نوعیت کی غفلت ناقابل قبول ہے اور اس سے پولیو جیسی اہم حفاظتی ٹیکہ کاری مہم کے بارے میں عوام میں غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande