
ممبئی، 30 جون (ہ س) مہاراشٹر میں ممنوعہ گٹکھا، پان مسالہ اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے سخت مہم شروع کر دی ہے۔ کمشنر تکارام منڈے کی ہدایت پر ممبئی کے چھ معروف ہوٹلوں، ریستورانوں، بیکریوں اور کلبوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے فوڈ سیفٹی لائسنس معطل کر دیے گئے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد فوڈ کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ایف ڈی اے کی ٹیم نے 27 جون کو نریمن پوائنٹ میں آدتیہ برلا نیو ایج ریسٹورنٹس اینڈ کیفے پرائیویٹ لمیٹڈ کے زیر انتظام فلنٹ اینڈ وارسا ریستوران کا معائنہ کیا۔ جانچ کے دوران خوراک کی غلط برانڈنگ اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیاں سامنے آنے پر اس کا فوڈ سیفٹی لائسنس معطل کر دیا گیا۔ اسی طرح بوریولی کی ایم کے بیکری میں تزئین و آرائش کے دوران خوراک کی تیاری جاری رکھنے اور شدید صفائی کی کمی پائے جانے پر بھی سخت کارروائی کی گئی۔
بھانڈوپ کے ہوٹل شری کرشنا، سوجیت بار اینڈ ریسٹورنٹ میں ریفریجریٹر کی خراب حالت، درجہ حرارت کے ریکارڈ کی عدم دستیابی اور صفائی سے متعلق متعدد خامیاں پائی گئیں۔ اس کے علاوہ سانتا کروز کے ہوٹل گوپال کرشنا، اندھیری کے کارک انٹرپرائزز اور باندرہ کے مدراس ڈائریز کے خلاف بھی فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کی گئی۔ ایف ڈی اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی غذائی شے کے معیار پر شک ہو تو فوری طور پر شکایت درج کرائیں۔ اس مقصد کے لیے 1800222365 کا ٹول فری نمبر جاری کیا گیا ہے۔
تکارام منڈےے نے کہا کہ صارفین کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہوٹلوں، ریستورانوں، بیکریوں اور دیگر تمام فوڈ کاروباری اداروں کے لیے فوڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل کرنا لازمی ہے اور ریاست بھر میں اچانک معائنوں اور سخت کارروائیوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
اسی دوران ایف ڈی اے کی کارروائی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض افراد کے خود کو جعلی ایف ڈی اے افسر ظاہر کرکے ہوٹل مالکان کو دھمکانے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ بوریولی مغرب کے ایک ہوٹل میں دو افراد نے خود کو ایف ڈی اے افسر بتاتے ہوئے فوڈ سیمپل کی جانچ کے نام پر کارروائی کی دھمکی دی اور فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے جعلی شناختی کارڈ بھی دکھائے۔ ہوٹل مالک کی شکایت پر پولیس نے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
کمشنر تکارام منڈے نے ہوٹلوں اور ریستورانوں کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وہ تمام صارفین کو مفت اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ صارف کی درخواست کے بغیر بوتل بند پانی پیش نہ کیا جائے اور مفت پینے کے پانی کی سہولت سے متعلق بورڈ نمایاں مقام پر آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 25 مئی کو کمشنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے فوڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ریاست بھر میں ایسی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے