بچوں کو جرائم میں استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، وزیراعلیٰ فڈنویس
ممبئی، 30 جون (ہ س) مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس نے منگل کو قانون ساز اسمبلی میں کہا کہ ریاست میں بچوں کو جرائم کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ سنگین جرائم میں ملوث نابالغوں کی عمر کی
بچوں کو جرائم میں استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، وزیراعلیٰ فڈنویس


ممبئی، 30 جون (ہ س) مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس نے منگل کو قانون ساز اسمبلی میں کہا کہ ریاست میں بچوں کو جرائم کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ سنگین جرائم میں ملوث نابالغوں کی عمر کی حد 18 سال سے کم کرکے 16 سال کرنے کی سفارش کے ساتھ مرکز کو باضابطہ تجویز بھیجی جائے گی۔

وزیراعلیٰ اسمبلی میں بچوں کو جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے غیرقانونی کاموں میں استعمال کیے جانے سے متعلق ارکان کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ یہ معاملہ رکن اسمبلی ارجن کھوتکر نے جالنا ضلع میں نابالغوں میں بڑھتے جرائم کے رجحان پر اٹھایا تھا، جبکہ سدھیر منگنٹیوار نے بھی ضمنی سوال کے ذریعے اس بحث میں حصہ لیا۔

فڈنویس نے کہا کہ لاتور کا حالیہ واقعہ خاندانی تنازع سے متعلق انفرادی نوعیت کا تھا اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس معاملے میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والے نابالغوں کو جووینائل جسٹس بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ تاہم بعض مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے عناصر اس قانونی شق کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس کے تحت نابالغوں کو گرفتار کرنے کے بجائے چلڈرن ہوم میں رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر بچوں کو جرائم کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور 16 سال سے کم عمر کے بچے بھی سنگین جرائم میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نابالغوں میں بڑھتے جرائم کے رجحان کا سائنسی تجزیہ کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اس کے علاوہ بچوں کو جرائم میں استعمال کرنے والے گروہوں اور منظم جرائم میں ملوث افراد کے خلاف منظم جرائم سے متعلق سخت دفعات نافذ کی جائیں گی اور متعلقہ قوانین کو مزید مؤثر بنانے پر بھی غور کیا جائے گا۔

ضمنی سوال کے جواب میں وزیر مملکت یوگیش قدم نے کہا کہ نابالغوں میں جرائم کی روک تھام کے لیے ریاست میں احتیاطی اور بازآبادکاری کے مختلف اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں۔ پولیس اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ، والدین اور اساتذہ کے لیے بیداری مہم، کونسلنگ، سائبر سکیورٹی اور منشیات سے بچاؤ کے حوالے سے رہنمائی فراہم کر رہی ہے، جبکہ حساس علاقوں میں باقاعدہ گشت اور احتیاطی کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جووینائل جسٹس ایکٹ 2015 کے تحت ریاست کی تمام پولیس یونٹس میں خصوصی چائلڈ اسکواڈ تشکیل دیے گئے ہیں۔ ان کے ذریعے کونسلنگ اینڈ ریفارمیٹو ایجوکیشن پروگرام نافذ کرکے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے بچوں کو دوبارہ معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ آبزرویشن ہومز میں ایسے بچوں کی حفاظت، تعلیم، کونسلنگ، شخصیت سازی اور بازآبادکاری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande