
نئی دہلی، 30 جون (ہ س)۔ سنٹرل ڈسٹرکٹ پولیس اسٹیشن کے پٹیل نگر پولیس اسٹیشن نے نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت ایک بڑی کارروائی کی ہے اور ایمفیٹامین کی اسمگلنگ کے ایک گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جس میں غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ پولیس نے تین ملزمان کو 71 گرام ایمفیٹامائن (کمرشیل مقدار) سمیت گرفتار کر لیا۔ ان میں سے دو غیر ملکی شہریوں کے ویزوں کی میعاد ختم ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر ہندوستان میں مقیم تھے۔ اس معاملے سے وزارت خارجہ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
گرفتار ملزمان کی شناخت پرنس، افوسا میکل اٹوہان عرف لیون اور جسٹن چکو واکے نام سے ہوئی ہے۔ پرنس اصل میں کیپ ٹاو¿ن، جنوبی افریقہ سے ہے اور 2023 میں میڈیکل/سیاحتی ویزا پر ہندوستان آیا تھا۔ مارچ 2026 میں اس کے ویزا کی میعاد ختم ہو گئی تھی، لیکن وہ غیر قانونی طور پر بھارت میں مقیم رہا۔ افوسا میکل اٹوہان عرف لیون نائجیریا کے شہر بینن کا رہائشی ہے۔ وہ 2019 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر ہندوستان آیا تھا، جس کی میعاد 2023 میں ختم ہوگئی تھی۔ تیسرا ملزم جسٹن چکووا، نیلوٹھی، دہلی کا رہائشی ہے۔ ان کے والد نائجیریا کے شہری ہیں، جب کہ ان کی والدہ ہندوستانی شہری ہیں۔
وسطی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس روہت راجبیر سنگھ نے منگل کو بتایا کہ 25 جون کو اطلاع ملی تھی کہ ایک غیر ملکی شہری پٹیل نگر علاقے میں منشیات سپلائی کر رہا ہے۔ اطلاع کی بنیاد پر ایس ایچ او انسپکٹر نوین کمار کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی۔
پولیس نے شادی پور فلائی اوور کے قریب جال بچھا کر پہلے ملزم کو 54 گرام ایمفیٹامائن سمیت گرفتار کر لیا۔ پوچھ گچھ کے بعد اس کے دو ساتھیوں کو نہال وہار اور نیلوٹھی میں بعد ازاں چھاپوں میں گرفتار کیا گیا۔ تینوں ملزمان سے مجموعی طور پر 71 گرام ایمفیٹامائن برآمد ہوئی جسے قانون کے مطابق ضبط کر لیا گیا۔
پوچھ گچھ کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ ہندوستان اور نائیجیریا کے درمیان کپڑوں کی درآمد اور برآمد کی آڑ میں ایمفیٹامائن کا کاروبار بھی کرتے تھے۔ تینوں افراد نے مل کر دہلی کے مختلف علاقوں میں منشیات کی سپلائی کرکے کافی منافع کمایا۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ دونوں غیر ملکی ملزمان کے ویزے کی مدت ختم ہو چکی تھی اور وہ بھارت میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔ وزارت خارجہ کو معلومات بھیج دی گئی ہیں، اور ان کے ویزا ریکارڈ کی تصدیق کی جا رہی ہے۔
پولیس اب منشیات کی فراہمی کے ذرائع، خریداروں، مالیاتی لین دین، موبائل فون، ڈیجیٹل ثبوت، اور بین ریاستی اور بین الاقوامی روابط کی چھان بین کر رہی ہے۔ ملزمان کے کرمنل ریکارڈ کی بھی تصدیق کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ منشیات کے پورے نیٹ ورک سے پردہ اٹھانے کے لیے تفتیش جاری ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی