
نئی دہلی، 30 جون (ہ س)۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) کے معاملے پر بھارت کے چیف جسٹس کو خط لکھے جانے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
منگل کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی ترجمان شہزاد پونا والا نے کہا کہ 23 اپوزیشن جماعتیں ایک طرف ایس آئی آر کی مخالفت کر رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب کرناٹک میں بھی ایس آئی آر کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے اسے اپوزیشن کی انتہائی منافقانہ سیاست قرار دیا۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ جب انتخابات میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ایس آئی آر اور ای وی ایم پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا، لیکن شکست کے بعد انہی اداروں اور طریقۂ کار کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔
انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے لیے ایس آئی آر صرف ایک بہانہ ہے، جبکہ اصل مقصد خود کو بچانا ہے۔ پونا والا نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جمہوری اداروں پر سوال اٹھا کر اپنی سیاسی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ 23 اپوزیشن جماعتوں اور ایک آزاد رکن پارلیمنٹ نے بھارت کے چیف جسٹس کو مشترکہ خط بھیج کر الیکشن کمیشن کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کی کارروائی اور انتخابات سے متعلق دیگر معاملات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس خط پر عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے کے بھی دستخط ہیں، جسے اپوزیشن اتحاد کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ اب اس خط پر 23 سیاسی جماعتوں اور ایک آزاد رکن پارلیمنٹ کے دستخط موجود ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد