
علی گڑھ،30 جون (ہ س)۔
علی گڑھ کے شاہ جمال قبرستان واقع وقف نمبر 63 کی زمین کو لے کر میونسپل کارپوریشن اور مقامی باشندوں کے درمیان تنازعہ مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ منگل کو بڑی تعداد میں علاقہ مکینوں اور وقف کمیٹی سے وابستہ افراد نے سابق میئر محمد فرقان سے ملاقات کر کے پورے معاملے سے انہیں آگاہ کیا۔
مقامی افراد اور وقف کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ متعلقہ زمین وقف نمبر 63 کے تحت قبرستان کے نام سے سرکاری ریکارڈ میں درج ہے، جس کا خسرہ نمبر 2516 بتایا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ میونسپل کارپوریشن نے بغیر کسی پیشگی اطلاع، پیمائش اور دستاویزات کی جانچ کے مذکورہ زمین پر بورڈ نصب کر کے قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ کارپوریشن کی جانب سے اب تک کوئی دستاویز متولی یا وقف کمیٹی کو نہیں دکھائی گئی۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اپریل ماہ میں بھی اسی طرح بورڈ نصب کر کے زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان کے مطابق میونسپل کارپوریشن کے قیام کے بعد گزشتہ کئی برسوں تک اس زمین کو قبرستان کی زمین تسلیم کیا جاتا رہا، لیکن اب اچانک اسے کارپوریشن کی ملکیت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
وقف کمیٹی کے اراکین نے بتایا کہ اسی زمین کے ایک حصے پر سڑک تعمیر کرنے کے لیے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے ٹینڈر بھی جاری کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں متولی معین احمد کے ساتھ ضلع مجسٹریٹ کے نام شکایت پیش کی گئی تھی اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (سٹی) سے بھی ملاقات کی گئی تھی، جس کے بعد فی الحال سڑک کی تعمیر کا کام روک دیا گیا ہے۔
اس معاملے کو لے کر علاقہ مکینوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
سابق میئر محمد فرقان سے ملاقات کے دوران لوگوں نے مطالبہ کیا کہ وہ ایک وفد کے ساتھ ضلع مجسٹریٹ اویناش کمار اور کمشنر سنگیتا سنگھ سے ملاقات کے لیے وقت دلائیں، تاکہ پورے معاملے اور متعلقہ دستاویزات سے انتظامیہ کو آگاہ کیا جا سکے۔
سابق میئر محمد فرقان نے وفد کی بات کو غور سے سنا اور یقین دلایا کہ وہ متعلقہ حکام سے بات کر کے مسئلے کے حل کی کوشش کریں گے۔ دوسری جانب وقف کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اس معاملے میں قانونی چارہ جوئی بھی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ