
کولکاتا، 30 جون (ہ س)۔ عام جنتا ا±ننین پارٹی کے سربراہ اور مرشد آباد ضلع کے نوادا سے ایم ایل اے ہمایوں کبیر کے متنازعہ اور اشتعال انگیز تبصرہ کے سلسلے میں پولس نے بڑی کارروائی کی ہے اور ان کی ریلی کے تین منتظمین کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری کی اسمبلی میں سخت انتباہ کے تقریباً 12 گھنٹے کے اندر سامنے آئی۔
گرفتار افراد کی شناخت غلام مصطفیٰ، محمد امین الحق اور انیس الرحمان کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس نے پیر کی رات دو الگ الگ کارروائیوں میں تینوں کو حراست میں لیا۔
حال ہی میں، مرشد آباد کے ریجی نگر اور شکتی پور میں ریلیوں کے دوران عام جنتا اننین پارٹی کے ایم ایل اے ہمایوں کبیر کے کچھ بیانات نے تنازعہ کو جنم دیا۔ الزام ہے کہ ان کی تقریروں میں اشتعال انگیز تبصرے تھے۔ اس سلسلے میں ریجی نگر اور شکتی پور پولیس اسٹیشنوں میں دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئیں۔
وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری نے پیر کو اسمبلی میں اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہمایوں کبیر کو میٹنگ میں مدعو کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور پھر قانون کے مطابق خود ایم ایل اے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ایسے افراد کو سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہمایوں کبیر کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ بھی دیا۔
وزیر اعلیٰ کی وارننگ کے اگلے ہی دن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے غلام مصطفیٰ اور محمد امین الحق کو ریجی نگر تھانے میں درج مقدمہ میں گرفتار کر لیا۔ غلام مصطفیٰ عام جنتا ا±ننین پارٹی کے کاشی پور 2 علاقے کے صدر ہیں۔وہیں، شکتی پور تھانے کی پولیس نے بیلڈنگا 2 بلاک کے پارٹی کوآرڈینیٹر انیس الرحمن کوبھی گرفتار کر لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق امین الحق ریجی نگر کے لوک ناتھ پور گاو¿ں کا رہنے والا ہے جبکہ غلام مصطفی کاشی پور علاقہ کا رہنے والا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جلسہ کرنے کے لیے پولیس کی اجازت حاصل کرنے کا عمل غلام مصطفیٰ نے ہی مکمل کیا تھا۔ ایم ایل اے ہمایوں کبیر پر الزام ہے کہ انہوں نے اسی میٹنگ میں اشتعال انگیز بیانات دیئے۔
پولیس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور درج ایف آئی آر کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی