
محض ہرمز کھولنے سے پابندیاں ختم نہیں ہوں گی، امریکہ نے ایران کو واضح پیغام دیا
واشنگٹن 3 جون (ہ س)۔ امریکہ نے واضح کر دیا ہے کہ محض آبنائے ہرمز کو پوری طرح کھول دینے سے ایران پر عائد اقتصادی اور تجارتی پابندیاں ختم نہیں کی جائیں گی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ پابندیوں میں کسی بھی قسم کی راحت کے لیے ایران کو اپنے جوہری پروگرام اور اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم سے متعلق معاملات پر پختہ معاہدہ کرنا ہوگا۔
روبیو نے امریکی اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے عوض پابندیاں ہٹانے کی کوئی بھی تجویز نہ تو ایران کو دی گئی ہے اور نہ ہی ایسے کسی نظام پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، پابندیوں میں ڈھیل تب ہی ممکن ہے جب جوہری سرگرمیوں کو لے کر بین الاقوامی برادری کے خدشات کا ازالہ ہو۔ اسی دوران، امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائی کو بھی کامیاب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ نے اپنے اہم فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں اور اس سے ایران کے دفاعی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
روبیو کے مطابق، اس مہم کو لے کر مختلف آرا ہو سکتی ہیں، لیکن فوجی نقطہ نظر سے یہ اپنے مقاصد کو پورا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں ایران کی بحری صلاحیتوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔
امریکی انتظامیہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے اور بحری تجارتی راستوں کی سیکورٹی کو لے کر بین الاقوامی سطح پر مسلسل گفتگو جاری ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم مانا جاتا ہے، کیونکہ دنیا کے بڑے حصے کا تیل اور گیس کی برآمدات اسی راستے سے ہو کر گزرتی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن