
نیویارک، 3 جون (ہ س)۔ امریکی ریاست نیویارک کی سینیٹ نے ہندوستانی یوم آزادی کے حوالے سے ایک تاریخی قرارداد منظور کر لی ہے۔ سینیٹ کی قرارداد (نمبر 1935) نے ریاستی گورنر کیتھی ہوچول سے اس برس 15 اگست 2026 کو ریاست میں’’ہندوستان کا یوم آزادی‘‘اعلان کرنے کی اپیل کی۔ اس موقع پر قانون سازوں نے مہاتما گاندھی کی وراثت کو یاد کیا اور امریکہ میں ہندوستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے تعاون کی تعریف کی۔
نیویارک سینیٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب تفصیلات کے مطابق،اس قانون ساز ادارے نے 15 اگست 2026 کو ہندوستان کے یوم آزادی کے طور پرمنظوری دینے کے لیے ایک قرارداد منظور کی ہے۔ یہ تاریخی اقدام ہندوستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات اور نیویارک میں ہندوستانی کمیونٹی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور شراکت کی عکاسی کرتا ہے۔
قرارداد میں ہندوستان کے بھرپور ثقافتی ورثے، تہذیبی اقدار اور جمہوری روایات کے تئیں احترام کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس موقع پر قانون سازوں نے خاص طور پر مہاتما گاندھی کے نظریات اور وراثت کو یاد کیا جو عدم تشدد اور آزادی کی علامت ہیں۔ یہ قرارداد نیویارک کی ترقی، معیشت اور معاشرے میں ہندوستانی امریکی کمیونٹی کی انمول شراکت کی یاد دلاتی ہے۔ اس قرار داد کی منظوری امریکہ اور ہندوستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کی مضبوطی کی ایک شاندار علامت ہے۔
سینیٹر کونی نے گورنر کیتھی ہوچل پر زور دیا ہے کہ وہ اب 15 اگست 2026 کو نیو یارک ریاست میں ہندوستان کی آزادی کے طور پر منانے کا اعلان کریں۔ انہوں نے کہا کہ 15 اگست 1947 کو ہندوستان کو برطانوی سلطنت سے آزاد قرار دیا گیا تھا۔ یہ آزادی تقریباً 200 سال کے نوآبادیاتی کنٹرول کے بعد حاصل ہوئی۔ یہ 200 سال جبر، قربانی اور جدوجہد بھرا دور ہے ۔ ہندوستان کی آزادی دنیا بھر کے لوگوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ مضبوط شہری، سیاسی اور معاشی حقوق کے ساتھ ساتھ خود ارادیت کے حصول کے لیے 90 سالہ جدوجہد کے خاتمے کی بھی علامت ہے۔
سینیٹر نے کہا کہ ہندوستانی آئین 26 نومبر 1949 کو نافذ کیا گیا اور اسے اپنایا گیا۔ یہ قانونی دستاویز ایک مضبوط مرکزی حکومت اور ریاستوں کی خود مختاری کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔ ہندوستانی ہر سال یوم آئین مناتے ہیں۔ نیویارک والوں کو اسے ہندوستانی عوام کے ساتھ مل کر منانا چاہیے۔ انہوں نے گورنر کیتھی ہوچول سے اس قرارداد کی کاپیاں قونصل جنرل آف انڈیا اور نیویارک ریاست میں مختلف ہندوستانی تنظیموں کو بھیجنے کی بھی اپیل کی ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد