بنگلہ دیش کا بی ایس ایف پر لوگوں کو غیر قانونی طور پر دھکیلنے کا الزام
ڈھاکہ، 3 جون (ہ س)۔ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) نے ہندوستان کی اہم نیم فوجی فورس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) پر بین الاقوامی سرحد پر کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیاہے۔ بی جی بی نے ہندوستان کی جانب سے لوگوں کو مبینہ طور پر دھکیلنے پر سخت مو
Bangladesh-BSF-Allegations


ڈھاکہ، 3 جون (ہ س)۔ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) نے ہندوستان کی اہم نیم فوجی فورس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) پر بین الاقوامی سرحد پر کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیاہے۔ بی جی بی نے ہندوستان کی جانب سے لوگوں کو مبینہ طور پر دھکیلنے پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ بی جی بی کے ترجمان کرنل ابو حسنات محمد محمود اعظم نے کہا کہ سرحد کے راستے ملک میں دھکیلے گئے کسی بھی فرد کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

ڈھاکہ ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق، بی جی بی ہیڈکوارٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اور فورس کے ترجمان کرنل ابو حسنات محمد محمود اعظمنے کہا کہ اگر دھکیلا گیا کوئی بھی فرد بنگلہ دیشی شہریت کا دعویٰ کرتا ہے تو بین الاقوامی قوانین اور طریقہ کار کے مطابق نامزد چوکیوں کے ذریعے شناخت کی تصدیق کے بعد ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جی بی سرحد پر کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔لوگوں کو دھکیلے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے بقرعید کے دوران متعدد اہلکاروں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ بی جی بی نے حال ہی میں جیسور سرحد پر دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایا۔ یہ واقعہ اتوار کی رات دیر گئے پیش آیا۔ جیسور کے شارشا ذیلی ضلع کے تحت بیناپول سرحدی علاقے میں خاردار تاروں کی باڑ میں بنے ایک دروازے سے دس خواتین، مرد اور بچوں کوبنگلہ دیش میں داخل کرانے کی کوشش کی گئی ۔ بی جی بی نے مداخلت کی اور کوشش کو ناکام بنا دیا۔ فورس کے ترجمان اعظم نے کہا کہ یہ لوگ اب بیناپول سرحد کے قریب سادی پور گاؤں کے بمباٹولہ کے قریب زیرو لائن (نو مینز لینڈ) پر پھنسے ہوئے ہیں۔

بی جی بی کے ترجمان نے کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک خط بھیجا گیا ، لیکن بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس نے پیر کی شام تک کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدی انتظام کے طریقہ کار پر عمل کیے بغیر بنگالی بولنے والے افراد کو بنگلہ دیش میں دھکیلنے کے الزامات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ جیسور 49 بی جی بی بٹالین کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل غلام محمد سیف عالم خان نے بتایا کہ 10 افراد اب بھی ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد کی زیرو لائن پر موجود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مئی میں سرحد کے ساتھ کئی علاقوں سے اسی طرح کے الزامات کی اطلاع ملی تھی کہ بنگالی بولنے والے افراد کو غیر قانونی تارکین وطن یا بنگلہ دیشی درانداز قرار دے کر بنگلہ دیش میں دھکیل دیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دراندازی 24 مئی کو عید الاضحی سے قبل تیز ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق 100 سے زائد خواتین، مردوں اور بچوں کو ستکھیرا کی مختلف سرحدی چوکیوں سے بنگلہ دیش میں دھکیل دیا گیا۔ دراندازی کی کوشش کے شبہ میں دھولا سرحدی علاقے اور آس پاس کے علاقوں میں 50 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ مئی کے آخر میں، چوواڈانگا میں درشنہ بارڈر پر مبینہ طور پر دراندازی کی کوشش کے دوران 10 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ بی جی بی حکام نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں گشت اور نگرانی میں اضافہ کر دیا گیا ہے، اضافی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے اور انٹیلی جنس اکٹھا کرنا تیز کر دیا گیا ہے۔ سرحدی برادریوں کو بھی نگرانی کی کوششوں میں شامل کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande