
کشمیر بھارت کا تاج ہے : ڈاکٹر کرن سنگھ
جموں، 27 جون (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے سابق صدرِ ریاست ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا ہے کہ کشمیر بھارت کا تاج ہے اور اسے صدیوں پرانی مذہبی ہم آہنگی، بقائے باہمی اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی اپنی عظیم روایت کو ہر حال میں برقرار رکھنا چاہیے۔ ایک تقریب کے دوران ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ کشمیر صدیوں سے مختلف مذاہب، فلسفوں اور تہذیبوں کا مرکز رہا ہے اور یہی خصوصیت اسے بھارت کی تکثیری تہذیب کی ایک منفرد علامت بناتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین المذاہب مکالمے کا مقصد کسی مذہب کی برتری ثابت کرنا نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان احترام، اعتماد اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو نفرت نہیں بلکہ محبت کی ضرورت ہے۔ ہم مختلف مذاہب اور زبانوں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن سب سے پہلے انسان ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام مذاہب مختلف راستوں کے باوجود ایک ہی خدا کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر کرن سنگھ نے کشمیر کی روحانی اور ثقافتی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وادی ویدک روایات، بدھ مت، کشمیری شیو ازم، لال دید، حضرت شاہ ہمدانؒ اور شیخ نورالدین نورانیؒ جیسی عظیم شخصیات کی تعلیمات کا مرکز رہی ہے، جنہوں نے کشمیر کی مشترکہ تہذیب کو فروغ دیا۔
انہوں نے کشمیر میں مستقل بین المذاہب مکالمہ مرکز قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر کرن سنگھ نے مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقسیمِ ہند کے پُرآشوب دور میں گاندھی جی نے کشمیر کو امید کی ایک کرن قرار دیا تھا، کیونکہ یہاں مذہبی ہم آہنگی اور بقائے باہمی کی مضبوط روایت موجود تھی۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے مشترکہ ثقافتی اور روحانی ورثے کی حفاظت کریں اور اتحاد، بھائی چارے اور تنوع میں یکجہتی کی اقدار کو آئندہ نسلوں تک منتقل کریں۔ ڈاکٹر کرن سنگھ نے اردو زبان کے فروغ کی بھی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اردو ہندوستان کی اپنی زبان ہے اور ملک کے مشترکہ ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہے، اس لیے اس کی ترویج اور تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر