گروگرام : پنجاب کے وزیر اعلی کی ویڈیو کی فرضی رپورٹ بنانے کا ملزم این آئی اے کا ملازم نکلا
۔ دوسرا ملزم ارون پنچکولہ میں فیملی شناختی کارڈ کے دفتر میں کام کرتا ہے ۔ دونوں گرفتار ملزمین کا فارنسک لیب سے کوئی تعلق نہیں گروگرام، 27 جون (ہ س)۔ پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان کی مبینہ متنازع ویڈیو کوفرضی فارنسکرپورٹ سے کلین چٹ دینے کے معاملے
Gurugram-punjab-cm-report-


۔ دوسرا ملزم ارون پنچکولہ میں فیملی شناختی کارڈ کے دفتر میں کام کرتا ہے

۔ دونوں گرفتار ملزمین کا فارنسک لیب سے کوئی تعلق نہیں

گروگرام، 27 جون (ہ س)۔ پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان کی مبینہ متنازع ویڈیو کوفرضی فارنسکرپورٹ سے کلین چٹ دینے کے معاملے میں ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔ گروگرام پولیس کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتار کیے گئے دو ملزمین میں سے ایک انکت نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے ساتھ کانٹریکٹ پر کام کرتا ہے۔ دوسرا ملزم، ارون پنچکولہ میں فیملی شناختی کارڈ کے دفتر میں کام کرتا ہے۔ یہ دونوں گرفتار ملزمین کسی سرکاری یا تسلیم شدہ فارنسک لیب سے وابستہ نہیں ہیں۔ فی الحال، پولیس نے دونوں ملزمین کے مالیاتی لین دین کی تحقیقات کے لیے ان کے بینک اکاو¿نٹس کو منجمد کر دیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔

گروگرام پولیس کے مطابق، ملزمین نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا کسی تکنیکی یا سائبر فارنسک لیب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے پیسوں کے لالچ میں فرضی رپورٹ تیار کی۔ یہ معلوم کرنے کے بعد کہ ملزم انکت کا این آئی اے سے تعلق ہے، گروگرام پولیس نے پورے معاملے کی اطلاع این آئی اے کے سینئر افسران کو دی ہے۔

ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (کرائم) نوین شرما نے جمعہ کو کہا کہ ملزمیں سے پوچھ گچھ میں پنجاب پولیس کے کچھ سینئر افسران کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ پولیس اب ان کے کردار اور ملزمان کے ساتھ ان کی بات چیت کے تکنیکی شواہد کی چھان بین کر رہی ہے۔ پولیس نے گروگرام کے کراو¿ن پلازہ ہوٹل سے سی سی ٹی وی فوٹیج اور وزیٹر کے اندراج کا رجسٹر بھی قبضے میں لے لیا ہے۔ ہوٹل کے ریکارڈ میں لدھیانہ کے پولیس کمشنر سوپن شرما اور پولیس سپرنٹنڈنٹ جسدیپ گل کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

گروگرام پولیس کی اب تک کی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جن لیب نے ویڈیو کی جانچ کی وہ سائفر سینٹینل لیب اور سائبیرین لیب ہے ہی نہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ رپورٹ میں لیب کے نام بھی دھوکہ دہی سے شامل کیے گئے تھے۔ نہ ہی کوئی لیب حکومت کے ذریعہ تسلیم شدہ ہے۔

اس معاملے میں شکایت کنندہ، فارنسک ایکسپرٹ جسپریت سنگھ کا دعویٰ ہے کہ پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے اسے یرغمال بنایا اور رپورٹ تیار کرنے کے لئے دھمکی بھی دی۔ جسپریت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ فرضی ویڈیو رپورٹ کا استعمال اکال تخت صاحب کو گمراہ کرنے کے لیے کیا جائے گا۔

واضح ہو کہ پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان کے ایک مبینہ ویڈیو کو لے کر ان دنوں بحث اور ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ سکھوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے والے اس ویڈیو کو فرضی بتایا گیا ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande