
حیدرآباد، 25 جون (ہ س)۔کانگریس پارٹی نارائن پیٹ ضلع کے صدر کے۔ پرشانت ریڈی نے موجودہ تعلیمی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں رائج نظامِ تعلیم طلبہ کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے بجائے انہیں مسترد کرنے والا ریجیکشن سسٹم‘‘ بن چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزیکانگریس پارٹی نارائن پیٹ ضلع کے صدر کے۔ پرشانت ریڈی نے موجودہ تعلیمی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں رائج نظامِ تعلیم طلبہ کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے بجائے انہیں مسترد کرنے والا ’’ریجیکشن سسٹم‘‘ بن چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت تعلیم کے شعبے کو کمزور کر رہی ہے، جبکہ تلنگانہ کی کانگریس حکومت وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی قیادت میں تعلیمی میدان میں انقلابی اصلاحات نافذ کر رہی ہے۔
نارائن پیٹ ضلع مرکز کے سی وی آر بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے پرشانت ریڈی نے کہاکہ کانگریس قائد راہل گاندھی ملک بھر میں طلبہ، نوجوانوں اور والدین سے رابطہ قائم کرکے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت کو اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام، جس میں سو طلبہ میں صرف ایک کو کامیاب قرار دیا جائے اور باقی ننانوے کو ناکام سمجھا جائے، انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال تقریباً 23 لاکھ طلبہ نیٹ (نیٹ)، 13 لاکھ طلبہ جے ای ای (جی)، 25 لاکھ امیدوار یو پی ایس سی اورکروڑوں نوجوان آر آر بی امتحانات میں شریک ہوتے ہیں، لیکن مرکزی حکومت ان کے مستقبل کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی یا یقین دہانی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پرشانت ریڈی نے کہا کہ آئی آئی ٹی اور میڈیکل اداروں میں داخلوں کے لیے لاکھوں طلبہ سخت محنت کرتے ہیں، لیکن محدود نشستوں کے باعث صرف چند امیدواروں کو کامیابی ملتی ہے، جبکہ اکثریت نظام کی جانب سے نظرانداز کر دی جاتی ہے۔ انہوں نے نیٹ پرچہ لیک معاملے کو تعلیمی نظام کی بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے لاکھوں طلبہ اور والدین ذہنی اذیت کا شکار ہوئے، تاہم مرکزی حکومت نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ انہوں نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے خلاف کارروائی اور مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا۔ حکومت تعلیم کے شعبے کو کمزور کر رہی ہے، جبکہ تلنگانہ کی کانگریس حکومت وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی قیادت میں تعلیمی میدان میں انقلابی اصلاحات نافذ کر رہی ہے۔
نارائن پیٹ ضلع مرکز کے سی وی آر بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرشانت ریڈی نے کہا کہ کانگریس قائد راہل گاندھی ملک بھر میں طلبہ، نوجوانوں اور والدین سے رابطہ قائم کرکے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت کو اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام، جس میں سو طلبہ میں صرف ایک کو کامیاب قرار دیا جائے اور باقی ننانوے کو ناکام سمجھا جائے، انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال تقریباً 23 لاکھ طلبہ نیٹ (نیٹ)، 13 لاکھ طلبہ جے ای ای (جی)، 25 لاکھ امیدوار یو پی ایس سی (یو پی ایس سی) اور کروڑوں نوجوان آر آر بی امتحانات میں شریک ہوتے ہیں، لیکن مرکزی حکومت ان کے مستقبل کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی یا یقین دہانی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پرشانت ریڈی نے کہا کہ آئی آئی ٹی اور میڈیکل اداروں میں داخلوں کے لیے لاکھوں طلبہ سخت محنت کرتے ہیں، لیکن محدود نشستوں کے باعث صرف چند امیدواروں کو کامیابی ملتی ہے، جبکہ اکثریت نظام کی جانب سے نظرانداز کر دی جاتی ہے۔ انہوں نے نیٹ پرچہ لیک معاملے کو تعلیمی نظام کی بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے لاکھوں طلبہ اور والدین ذہنی اذیت کا شکار ہوئے، تاہم مرکزی حکومت نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ انہوں نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے خلاف کارروائی اور مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق