
ممبئی ، 24 جون (ہ س)۔ مہاراشٹر قانون ساز کونسل میں بدھ کو بجلی کے نرخوں، اسمارٹ میٹروں کے نفاذ اور ٹائم آف ڈے ٹیرف کے سولر توانائی شعبے پر اثرات کے موضوع پر زبردست بحث ہوئی، جہاں اپوزیشن اراکین نے حکومت کی توانائی پالیسیوں پر سخت سوالات اٹھائے جبکہ حکومت نے اپنے مؤقف کا بھرپور دفاع کیا۔ کانگریس کے اراکین ستیج (بنٹی) پاٹل اور بھائی جگتاپ نے حکومت کو گھیرتے ہوئے بجلی بلوں میں شفافیت کا مطالبہ کیا اور صارفین پر پڑنے والے مالی بوجھ پر تشویش ظاہر کی۔بحث کا آغاز کرتے ہوئے ستیج پاٹل نے حکومت کے اس دعوے کو چیلنج کیا کہ ریاست میں بجلی کے نرخ مسابقتی اور کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگرچہ نرخوں میں کمی کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن زمینی سطح پر صارفین سے وصول کی جانے والی رقم مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ انہوں نے ماضی سے لاگو کیے گئے گرڈ چارجز پر بھی سوال اٹھایا اور مختلف صارفین کے مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ فریقین کی مشترکہ میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا۔ پاٹل نے بجلی کی تقسیم کی درست پیمائش یقینی بنانے کے لیے فیڈر سطح پر اسمارٹ میٹر نصب کرنے کی بھی وکالت کی۔ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر توانائی دیویندر فڑنویس نے اعداد و شمار کی بنیاد پر حکومت کا دفاع کیا اور اپوزیشن کے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں بجلی کے نرخ دیگر ریاستوں کے مقابلے میں کافی مسابقتی ہیں۔ فڑنویس کے مطابق اس وقت مہاراشٹر میں صنعتی بجلی کا نرخ 8.19 روپے فی یونٹ ہے، جبکہ تمل ناڈو میں 9.30 روپے اور تلنگانہ میں 9.20 روپے فی یونٹ ہے۔فڑنویس نے مزید کہا کہ ریاست کے تمام فیڈرز پر سو فیصد اسمارٹ میٹر نصب کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد بلنگ میں اندازوں کا دور ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ 2029-30 تک مہاراشٹر ملک کی سب سے سستی بجلی فراہم کرنے والی ریاست بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں بجلی کی طلب میں 20 فیصد اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کی پالیسیاں صنعت دوست ہیں۔ٹائم آف ڈے ٹیرف کے متنازع معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے فڑنویس نے کہا کہ سولر توانائی استعمال کرنے والے عموماً اپنی 35 فیصد بجلی دن میں اور 65 فیصد رات میں استعمال کرتے ہیں۔ اگر ٹائم آف ڈے ٹیرف نافذ نہ کیا جائے تو اس سے ہونے والا مالی نقصان تین کروڑ عام صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 40 ہزار اداروں کے فائدے کے لیے عام عوام کو نقصان نہیں پہنچنے دے گی۔کانگریس رہنما بھائی جگتاپ نے حکومت کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے خبردار کیا کہ موجودہ ٹیرف ڈھانچہ سولر توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے نوجوان صنعت کاروں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سولر توانائی مستقبل کا شعبہ ہے اور بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ نوجوان اس میدان میں قدم رکھ رہے ہیں، لیکن موجودہ ٹائم آف ڈے ٹیرف ان پر بھاری پڑ رہا ہے۔ جگتاپ نے عدالت میں آئندہ سماعت سے قبل تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ نئی مشاورتی میٹنگ منعقد کرنے کا مطالبہ کیا۔اس مطالبے پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ایوان کو یقین دلایا کہ وہ جلد ہی سولر توانائی آپریٹروں اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ میٹنگ منعقد کریں گے تاکہ ایسا قابل قبول حل نکالا جا سکے جس سے صنعتی ترقی اور عام صارفین کے مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے