جموں و کشمیر حکومت نے رنبیر کینال کی توسیع کے لیے منصوبہ مرکزی کمیشن کو پیش کیا
جموں, 24 جون (ہ س)۔ جموں و کشمیر حکومت نے جموں اور سانبہ اضلاع میں آبپاشی کے نظام کو مضبوط بنانے اور زرعی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے تاریخی رنبیر کینال اور اس کے تقسیمی نیٹ ورک کی توسیع، تزئین و آرائش اور جدید کاری کا 998.76 کروڑ روپے مالیت کا م
Cannal


جموں, 24 جون (ہ س)۔ جموں و کشمیر حکومت نے جموں اور سانبہ اضلاع میں آبپاشی کے نظام کو مضبوط بنانے اور زرعی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے تاریخی رنبیر کینال اور اس کے تقسیمی نیٹ ورک کی توسیع، تزئین و آرائش اور جدید کاری کا 998.76 کروڑ روپے مالیت کا منصوبہ مرکزی آبی کمیشن کو منظوری کے لیے پیش کر دیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق منصوبے کے تحت 40 کلومیٹر طویل مرکزی رنبیر کینال اور تقریباً 400 کلومیٹر طویل تقسیمی نیٹ ورک کی مکمل مرمت، لائننگ اور جدید کاری کی جائے گی، جس سے پانی کے ضیاع میں کمی اور آبپاشی کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد 15,591 ہیکٹر اضافی اراضی کو آبپاشی کی سہولت حاصل ہوگی، جس سے مجموعی آبپاشی کا رقبہ 45,050 ہیکٹر سے بڑھ کر 60,641 ہیکٹر تک پہنچ جائے گا۔ اس کے علاوہ آبپاشی کی شدت 116 فیصد سے بڑھ کر 157 فیصد ہونے کی توقع ہے، جس سے کسان سال میں زیادہ فصلیں کاشت کر سکیں گے۔

منصوبے کے تحت نہری نظام کی جدید کاری کے باعث تقریباً 300 کیوسک اضافی پانی دستیاب ہوگا، جس میں سے 200 کیوسک پانی پینے کے پانی کی فراہمی بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جبکہ باقی 100 کیوسک پانی نہر کی صفائی اور دیکھ بھال کے لیے مختص رہے گا۔

ذرائع کے مطابق اس منصوبے سے زرعی شعبے میں نمایاں تبدیلی آئے گی اور کسانوں کو دھان، گندم، سبزیوں اور دیگر منافع بخش فصلوں کی کاشت کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ اس کے علاوہ تقریباً 4,000 ہیکٹر رقبہ، جو اس وقت ٹیوب ویلوں کے ذریعے سیراب ہوتا ہے، نہری نظام سے منسلک کیا جائے گا، جس سے زیرزمین پانی پر انحصار کم ہوگا۔

منصوبے کی لاگت میں مرکزی نہر کے کاموں کے لیے 234.68 کروڑ روپے، تقسیمی نیٹ ورک کی جدید کاری کے لیے 459.59 کروڑ روپے، مکینیکل کاموں کے لیے 119.73 کروڑ روپے، اراضی کے حصول کے لیے 10.68 کروڑ روپے اور قیمتوں میں اضافے کی مد میں 164.99 کروڑ روپے شامل ہیں۔

حکام کے مطابق منصوبے سے سالانہ زرعی آمدنی میں تقریباً 176 کروڑ روپے کا اضافہ متوقع ہے، جبکہ یہ اقدام پانی کے بہتر استعمال، زرعی ترقی اور خطے کے آبی و غذائی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande