
-سی پی رادھا کرشنننائب صدرجمہوریہ ہندصدیوں سے بھارت کی منفرد پہچان اس کے عظیم فلسف?’وسودھیو کٹمبکم‘ میں مضمر رہی ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ پوری دنیا ایک کنبہ ہے اور تمام جاندار ایک شے ہیں۔بھارت کی روحانی دانائی میں پیوست یوگا کی جڑیں ایک ایسی قدیم مشق اور طرزِحیات ہے جو جسم، ذہن اور روح کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ یوگا کے بنیادی اجزائ میں آسن -جسمانی حرکات، پرانایام-سانس کی مشقیں اور مراقبہ شامل ہیں۔ان تمام عناصر کا امتزاج جسمانی فٹنس، ذہنی یکسوئی اور جذباتی توازن پیداکرتا ہے۔
مورخہ27 ستمبر 2014 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی جی نے کرہ¿ ارض کو ایک زیادہ بہتر رہنے کی جگہ بنانے اور پائیدار دنیا کی تشکیل کے لیے انسانی طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یوگا ذہن اور جسم کی یکسوئی، فکر اور عمل کے اتحاد،ضبط اور تکمیل، انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی اور صحت و فلاح و بہبود کے لیے ایک جامع نقط? نظر کا مظہر ہے۔ وزیراعظم کی درخواست پر، 11 دسمبر 2014 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 174 سے زائد ممالک کی ریکارڈ تعداد کی مشترکہ سرپرستی سے پیش کی گئی اس تجویز کو منظوری دی کہ 21 جون کو یوگا کا بین الاقوامی دن قرار دیا جائے۔2015 سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ عوامی مقامات پر یکجا ہوتے رہے ہیں تاکہ مل کر یوگا کی مشق کریں اور یوں ہماری قدیم دانائی کو ایک عالمی تحریک میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
اس سال 21 جون کو جب وزیراعظم نریندر مودی جی کولکاتا میں یوگا کے بین الاقوامی دن کی مرکزی تقریب کی قیادت کریں گے، میں انہی تقریبات میں شرکت کے لیے لداخ کا دورہ کر رہا ہوں۔ذاتی طور پر گزشتہ کئی برسوں سے مجھے یوگا اور پنچ کرما کی مشق سے حاصل ہونے والے فوائد کا براہ راست تجربہ ہے۔ ان دونوں علوم کو اکثر ”جڑواں علوم“قرار دیا جاتا ہے۔یوگا اور پنچ کرما کے ذریعے حاصل ہونے والے یہی گہرے، مثبت اور روح پرور تجربات میرے لیے باعثِ تحریک بنے، جن کی بدولت میں نے یوگا اور انسانی فلاح و بہبود پر اس کے گہرے اور دیرپا اثرات کے بارے میں اپنے خیالات قلم بند کرنے کا ارادہ کیا۔
یوگا: بھارت کا ایک لازوال ورثہ
’یوگا‘-جو جسمانی، ذہنی اور روحانی فلاح و بہبود کے لیے ایک لازوال مشق ہے- کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ہماری تہذیب کے اولین دور سے ہی ہوا تھا۔یوگا سے متعلق روایات کے مطابق، بھگوان شیو کو پہلا یوگی یا آدی یوگی اور پہلا گرو یا آدی گرو سمجھا جاتا ہے، جبکہ مہارشی پتنجلی کو کلاسیکی یوگا کا بانی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے یوگا سوتروں میں اس کے اصولوں کو منظم اور مرتب کیا۔مہارشی پتنجلی کا تمل ناڈو کے ساتھ گہرا روحانی تعلق بیان کیا جاتا ہے۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ مادی طور پران کی جیوا سمادھی تروپتور میں واقع ہے۔
ہمارے قابل احترام رشیوں اور منیوں نے دنیا کو یوگا کا انمول خزانہ عطا کیا۔ برسوں کی مراقبہ، ریاضت اور روحانی جستجو کے ذریعے رشیوں اور سنتوں نے ایک ایسا جامع نظام تشکیل دیا جو جسم، ذہن اور روح کو یکجا کرتا ہے۔شری رام کرشن پرم ہنس نے یوگا کے تین عظیم طریقوں کی وضاحت کی: گیان یوگا، جو حکمت اور علم کا راستہ ہے، کرم یوگا، جو بے لوث خدمت اور راست عمل کا راستہ ہے اور بھکتی یوگا، جو خالص محبت اور عقیدت کا راستہ ہے۔ انہوں نے سکھایا کہ تینوں راستے بالآخر اعلی سچائی کے حصول پر یکجا ہوتے ہیں۔
آج یوگا جغرافیائی، ثقافتی اور مذہبی سرحدوں سے ماورا ہو چکا ہے اور ہندوستان کے رشیوں اور سنتوں کی لازوال حکمت اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی پائیدار خدمات کا ایک جیتے جاگتے ثبوت کے طور پر قائم ہے۔
صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگا
ہمارے ملک میں ہر سال ’ یوگا کابین الاقوامی دن‘ کسی بامقصد موضوع کے ساتھ انتہائی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ اس سال کا موضوع ’صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگا‘خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ صحت کی دیکھ بھال، عوامی صحت کے نظام میں نمایاں ترقی اور شرح اموات میں کمی کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک میں انسانی زندگی کی اوسط عمر میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت بھی اس گہری آبادیاتی تبدیلی کا گواہ بن رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے آبادی فنڈ (یو این ایف پی اے) کی جانب سے جاری کردہ انڈیا ایجنگ رپورٹ 2023 کے مطابق2050 تک تقریباً ہر پانچ میں سے ایک بھارتی شہری کی عمر 60 سال سے زیادہ ہوگی۔
آج جہاں ہم طویل عمری کے اس انمول تحفے کا جشن منا رہے ہیں، وہیں یہ ساتھ ہی معاشرے پر ایک سنجیدہ ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ زندگی میں شامل ہونے والے ان برسوں کا مطلب معیارِ زندگی میں بہتری بھی ہو۔ اسی تناظر میں یوگا کا بین الاقوامی دن(ا?ئی ڈی وائی) 2026 کا موضوع— ”صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگا“— ایک بروقت پیغام کے طور پر سامنے آیا ہے۔اس آبادیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بھارت میں ’سلور اکانومی‘کے دائرے میں وسعت پیدا ہوئی ہے، جو صحت کی دیکھ بھال اور بزرگ شہریوں کی ضروریات سے متعلق اشیا اور خدمات پر مرکوز ہے۔ صنعتی ماہرین کے اندازوں کے مطابق، اس شعبے کا حجم اس وقت تقریباً 73,000 کروڑ روپے ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے برسوں میں اس شعبے میں نمایاں ترقی ہوگی۔
جدید دور میں بڑھاپے کے حقائق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بزرگ شہریوں کو کس طرح مختلف قسم کے مسائل اور کمزوریوں کی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس تناظر میں، عالمی ادارہ? صحت نے دنیا بھر میں معمر افراد میں غیر متعدی امراض، ذہنی صحت کے مسائل، اور سماجی تنہائی کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ موجودہ وقت کی فوری ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کو کم عمری ہی سے یوگا کی طرف راغب کیا جائے۔ جتنی جلدی یوگا کی مشق شروع کی جائے، زندگی بھر اس کے اتنے ہی زیادہ مجموعی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے یوگا کو صحت، تندرستی اور اقدار پر مبنی تعلیم کے ایک لازمی جزو کے طور پر نمایاں مقام دیا ہے۔ یہ نوجوان نسل کو یوگا سے متعارف کرانے کی سمت میں ایک مثبت پہل ہے۔ یہ طلبہ میں نظم و ضبط، یکسوئی، جذباتی توازن اور صحت مند طرزِ زندگی پیدا کرنے کا یقینی ذریعہ ثابت ہوگا۔اس طرح، ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں بدلتے ہوئے آبادیاتی منظرنامے سے کامیابی کے ساتھ نمٹنے کے لیے، بھارت دنیا کے سامنے ایک منفرد مثال پیش کرتا ہے — ایک ایسی مثال جو قدیم تہذیبی حکمت کو جدید سائنسی توثیق کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے - اور وہ ہے’یوگا‘۔
یوگا — جدید دور کے بڑھاپے کیلئے ایک حل
آج جدید سائنس تیزی سے ہمارے رشیوں اور یوگیوں کی ان لازوال بصیرتوں کی توثیق کر رہی ہے، جنہوں نے منظم طرزِ زندگی، یوگا اور روحانی مشق کے ذریعے غیر معمولی درازی عمر، جسمانی توانائی اور ذہنی یکسوئی حاصل کی۔ حالیہ برسوں میں یوگا کے علاج و معالجے کے پہلوو¿ں میں علمی اور طبی دلچسپی غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔
معروف اداروں جیسے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ (این ا?ئی ایچ)، ہارورڈ میڈیکل اسکول اور بہت سے معروف جرائد، مثلاً دی لانسیٹ میں شائع ہونے والی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ باقاعدہ یوگا کی مشق بزرگ شہریوں میں محفوظ طریقے سے توازن، لچک اور جسمانی حرکت میں بہتری لاتی ہے، جس کے نتیجے میں گرنے کے خطرات اور ان کے خدشات میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔تحقیقات نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ یوگا ہڈیوں کی کثافت میں اضافہ، جوڑوں کے درد میں کمی، سانس لینے میں بہتری محسوس ہونا، بلڈ پریشر کے استحکام اور ذہنی صحت کے فروغ میں کافی فائدہ فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح، مراقبہ اور سانس کی مشقیں بزرگ افراد میں نیند کے معیار، جذباتی برداشت اور ذہنی کارکردگی میں بھی بہتری لاتی ہیں۔
تاہم میں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ یوگا کی اصل طاقت اس کی ہمہ گیر فطرت میں مضمر ہے۔ جسمانی بحالی سے آگے بڑھ کر، یوگا جذباتی توازن اور سماجی ربط و تعلق کو بھی فروغ دیتا ہے۔ میں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ آج بڑھاپے کے سب سے گہرے چیلنجز میں سے ایک بہت سے بزرگ افراد میں بڑھتی ہوئی تنہائی کا احساس ہے۔ یوگا نرمی سے اس اندرونی تنہائی کو اجتماعی وابستگی کے ایک وسیع تر احساس میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ افراد کو ”اپنے پر ہی توجہ دینے“ کی سوچ سے ”ہم پر توجہ دینے“شعور کی طرف لے جاتا ہے، جو ہمدردی، باہمی ربط اور اندرونی سکون پر مبنی ہوتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ میرے اپنے تجربات کے مطابق،’صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگا‘ شدید جسمانی مشقت کا تقاضا نہیں کرتا۔ یوگا کی کلاسیکی مشقوں کو سوچ سمجھ کر بزرگ شہریوں کے لیے موزوں، نرم اور آسان طریقوں میں ڈھالا گیا ہے۔ ان میں ’یوگک سوکشم ویایام‘یعنی جوڑوں کی ہلکی پھلکی حرکت، کرسی کی مدد سے کیے جانے والے آسن ، ماہرین کی رہنمائی میں سانس لینے کی تکنیکیں اور مراقبے کی مشقیں شامل ہیں، جو بڑھاپے کے نظام جسم پر دباو¿ ڈالے بغیر اعصابی و غدودی نظام اور قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتی ہیں۔
اسی کے ساتھ، یوگا ان دیکھ بھال کرنے والوں اور خاندان کے افراد کے لیے بھی قوتِ برداشت کا ذریعہ بنتا ہے جو بزرگوں کی دیکھ بھال کی جذباتی اور جسمانی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں۔ ان بیش بہا فوائد کو تسلیم کرتے ہوئے، وزارتِ آیوش نے ایک اہم اور تاریخی اقدام کے طور پر’غیر متعدی امراض اور مخصوص گروپوں کے لیے 10 یوگا پروٹوکولز‘ متعارف کرائے ہیں، جن میں بڑھاپے سے متعلق صحت کے لیے ایک مخصوص، شواہد پر مبنی یوگا ماڈیول بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ یوگا 365 اقدام، جو ایک ملک گیر مہم ہے اور 100 دن پر مشتمل مفت آن لائن رہنمائی شدہ یوگا پروگرام فراہم کرتی ہے،اس طرح تیار کیا گیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یوگا تمام عمر کے شہریوں کی روزمرہ کی زندگی میں ایک آسان اور مستقل ساتھی بن جائے۔
دو ہزار سال سے بھی پہلے، عظیم دانشور تمل سنت تھیروا±لورنے ک±رال (949) کے ذریعے صحت کے بارے میں ایک انفرادی نقط? نظر”علاج شروع کرنے سے پہلے مریض کی حالت، بیماری کی نوعیت اور مناسب وقت کو مدنظر رکھنے کی“ وکالت کی تھی۔یہ لازوال حکمت جدید دور کے صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگا کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے، جہاں مشقوں کو فرد کی عمر، صحت اور ضروریات کے مطابق نہایت احتیاط سے ڈھالا جاتا ہے، تاکہ لوگ اپنی عمر کے آخری حصے میں بھی زیادہ صحت مند، فعال اور باوقار زندگی گزار سکیں۔
جب ہم ’یوگا کا بین الاقوامی دن2026‘منا رہے ہیں، تو میں ہر شہری، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی کی تنظیموں، صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ افراد اور سماج کے رہنماو¿ں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ یوگا کو محض ایک کبھی کبھار کی جانے والی ورزش کے طور پر نہیں، بلکہ ایک تاحیات ثقافتی اور فلاحی مشق کے طور پر اپنائیں۔ کسی بھی معاشرے کا حقیقی معیار اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کی دیکھ بھال کس طرح کرتا ہے۔ اس لیے آئیے ہم ایک ایسا سازگار ماحول بنانے کی کوشش کریں جہاں ہمارے بزرگ شہری خوف، محتاجی یا تنہائی میں نہیں، بلکہ وقار، توانائی، مقصد اور امن کے ساتھ جئیں۔ یوگا کو زندگی کی ایک رِدَم بنا کر، ہم اجتماعی طور پر اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہمارے شہریوں کے یہ سنہری سال واقعی صحت، ہم آہنگی اور سکون قلب کے سال بن جائیں! ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan