
نئی دہلی، 20 جون (ہ س)۔ کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ فرانس کے ایوین میں 17-15 جون تک منعقدہ جی -7 ممالک کے سربراہان کے اجلاس کے دوران، امریکہ کے ذریعہ یو ایس انڈو-پیسیفک کمانڈ کا نام تبدیل کرنے، نقشوں پر پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) کو پاکستان کا حصہ ظاہر کرنے اور ہندوستانیوں کے لئے ویزا بند کرنے جیسی ہندوستان مخالف حرکتیں کی گئیں۔ اس کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے اہم امور وموضوعات کو نہیں اٹھایا۔
کانگریس کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے ہفتہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس میٹنگ کے دوران ہندوستان کے مفادات کے خلاف تین بڑی باتیں ہوئیں۔ اول یہ کہ، امریکہ نے ’یو ایس انڈو پیسفک کمانڈ“ کا نام بدل کر یو ایس پیسفک کمانڈ رکھ دیا۔ دوسرے، امریکہ نے اپنے نقشے میں پی او کے کے حصے کو پاکستان کے طور پر دکھا دیا۔ تیسرا اور سب سے زیادہ سنگین بات یہ رہی کہ امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے جولائی 2026 کے ویزا بلیٹن میں ہندوستانیوں کے لیےای بی -2 اور ای بی -5 ویزا بند کر دیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مودی ٹرمپ کے سامنے ملک کے حساس اور اہم مسائل پر مکمل طور پر خاموش رہے۔ امریکہ نے ہندوستان کے مہمان’ آئی آر آئی ایس دینا‘ کو ڈبو دیا تھا لیکن بدقسمتی سے وزیراعظم نے ٹرمپ سے اس بارے میں بھی کوئی سوال نہیں کیا۔
کھیڑا نے کہا کہ 1986 میں ’وائس آف امریکہ ‘سری لنکا میں ہندوستانی ساحل کے بالکل قریب اپنا ٹرانسمیٹر نصب کرنا چاہتا تھا لیکن اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ملک کی خودمختاری کا حوالہ دیتے ہوئے ایسا ہونے سے روک دیا۔ وہیں ، ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بحیثیت وزیر اعظم سفارت کار دیویانی کھوبراگڑے کے معاملے کے حوالے سے امریکہ کو جو سخت پیغام دیا تھا، اس سے پوری دنیا حیران رہ گئی تھی۔پاکستان کو ایف اے ٹی ایف (فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس) کی گرے لسٹ میں لانے والی یوپی اے حکومت تھی، لیکن آج ٹرمپ ’آپریشن سندور ‘ کے بعد پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر کو عشائیہ پر مدعو کر تے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران ٹرمپ کا یہ بیان کہ ”مودی کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے اگر کوئی ہندوستان پر حملہ کرے گا تو امریکہ مدد کرے گا“، ایسا تھا کہ گویا ہم امریکہ کے تابع ہیں۔ ہندوستان نے ہمیشہ اپنے بل بوتے پر کئی جنگیں جیتی ہیں۔ امریکہ نے ہمارے تین ملاحوں کو مار ڈالا اور ٹرمپ نے افسوس کا اظہار بھی نہیں کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد