



- صدر جمہوریہ نے مدھیہ پردیش میں سکل سیل انیمیا کے خاتمے میں عوامی شراکت داری کی تعریف کی
کھنڈوا، 19 جون (ہ س)۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے سکل سیل انیمیا کے تئیں بیداری، وقت پر جانچ اور علاج کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش میں سوا کروڑ لوگوں کی اسکریننگ کا ہدف وقت سے پہلے پورا ہوا ہے۔ قومی سکل سیل انیمیا خاتمہ مشن کے تحت مدھیہ پردیش نے جو کثیر جہتی کامیابیاں حاصل کی ہیں، اس کے لیے میں ریاستی حکومت کی ستائش کرتی ہوں۔
صدر جمہوریہ مرمو جمعہ کے روز مدھیہ پردیش کے ضلع کھنڈوا کے اومکاریشور میں عالمی سکل سیل ڈے پر منعقدہ ریاستی سطح کے پروگرام سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سکل سیل ڈے پر اس خصوصی پروگرام کا انعقاد صحت کے شعبے میں ایک اہم چیلنج کا سامنا کرنے کی سمت میں ایک بامنی کوشش ہے۔ اس تقریب سے منسلک تمام لوگوں کا کام قابلِ تعریف ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ سال 2023 میں قومی مشن کا آغاز کرتے وقت جو کئی بڑے اہداف ملک کے سامنے رکھے گئے تھے، ان میں سے تشخیص کا ہدف وقت سے پہلے ہی پورا ہو گیا۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ نومولود بچوں سے لے کر 40 برس کی عمر تک کے 7 کروڑ لوگوں کی اسکریننگ کا ہدف پورا ہو چکا ہے۔ یہ کوئی چھوٹی کامیابی نہیں ہے۔ یہ پوری دنیا میں موروثی (جینیاتی) بیماریوں کی جانچ کی سب سے بڑی مہمات میں سے ایک ہے۔ اس کامیابی میں مدھیہ پردیش کا اہم تعاون ہے۔ ریاست میں اب تک سوا کروڑ سے بھی زیادہ لوگوں کی جانچ ہو چکی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو جینیٹک کونسلنگ کارڈ بھی دیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سکل سیل سے متعلق چیلنج کو حکومتِ ہند نے بہت سنجیدگی سے لیا ہے اور گزشتہ چند برسوں میں جامع نقطہ نظر سے حکومت نے جو کوششیں کی ہیں، وہ انتہائی قابلِ تعریف ہیں۔ تقریباً تین سال پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے مدھیہ پردیش کے شہڈول سے قومی سکل سیل انیمیا خاتمہ مشن کو لانچ کیا تھا۔ اس پہل کے پیچھے نہ صرف حکومت کی سنجیدہ کوشش کا پختہ عزم تھا بلکہ اس چیلنج سے جڑے ہر پہلو پر مناسب ردعمل دینے کی دور اندیش سوچ بھی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ مرکزی وزارتِ صحت اور مرکزی وزارتِ قبائلی امور کے مشترکہ ماڈل کے طور پر ملک میں پہلی بار ایسا مشن شروع کیا گیا۔ اسے صرف صحت سے متعلق مسئلہ کے طور پر نہیں دیکھا گیا، بلکہ اسے قبائلی صحت کا مسئلہ، موروثیت سے جڑی بیداری اور پریوینٹیو ہیلتھ کیئر (احتیاطی نگہداشتِ صحت) کے چیلنج کے ساتھ ساتھ سماجی رویوں میں تبدیلی کے مشن کے طور پر دیکھا گیا۔ اس مشن کے پسِ منظر میں کئی سطحوں پر کی جانے والی سائنسی اور سماجی تحقیقات رہی ہیں۔
صدر جمہوریہ مرمو نے کہا کہ آئی سی ایم آر، قبائلی صحت تحقیقی ادارہ، ایمس، این ایچ ایم، ڈبلیو ایچ او اور مختلف ریاستی حکومتوں نے اس موضوع کے مختلف پہلووں پر مطالعہ کیا ہے۔ ان سے بنیادی طور پر یہ اندازہ سامنے آیا کہ ہندوستان میں تقریباً 2 سے 2.5 کروڑ لوگ سکل سیل جین کے حامل (واہک) ہو سکتے ہیں۔ لاکھوں لوگ اس بیماری سے شدید متاثر ہیں۔ سب سے زیادہ اثر وسطی ہندوستان کے قبائلی علاقوں میں ہے۔ کئی خاندان نسلوں سے اس بیماری سے متاثر تھے لیکن انہیں بیماری کا نام تک معلوم نہیں تھا۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہندوستان کے قبائلی علاقوں میں سکل سیل کی بیماری کا پھیلاو عام آبادی کے مقابلے کئی گنا زیادہ ہے۔ چنانچہ، ملک میں پہلی بار عوامی صحت، قبائلی بہبود، موروثی سائنس اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کو ایک ساتھ جوڑ کر یہ ملک گیر مہم شروع کی گئی۔ ملک کی 17 ریاستوں میں چلائی جا رہی اس مہم میں ریاستوں نے بھی پوری تندہی سے شرکت کی ہے۔
اس سے قبل، صدر جمہوریہ نے شمع روشن کر کے ریاستی سطح کے پروگرام کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر گورنر منگو بھائی پٹیل اور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو بھی موجود تھے۔ انہوں نے اسٹیج پر صدر جمہوریہ کا استقبال کیا۔ صدر جمہوریہ نے قومی سکل سیل انیمیا خاتمہ مشن-2047 میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی گرام پنچایتوں کے نمائندوں اور افسران کو اعزاز سے بھی نوازا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن