محکمہ اسکولی تعلیم اور گوگل کے درمیان مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے معاہدہ، چار لاکھ سے زائد اساتذہ کو دی جائے گی تربیت
ممبئی ، 19 جون (ہ س)۔ ریاستی محکمہ اسکولی تعلیم اور گوگل فار ایجوکیشن کے درمیان اساتذہ کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کرنے کے مقصد سے جمعہ کو ایک مفاہمتی دستاویز (لیٹر آف انٹینٹ) پر دستخط کیے گئے۔ اس اقدام کے
Education Maha AI Training


ممبئی ، 19 جون (ہ س)۔ ریاستی محکمہ اسکولی تعلیم اور گوگل فار ایجوکیشن کے درمیان اساتذہ کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کرنے کے مقصد سے جمعہ کو ایک مفاہمتی دستاویز (لیٹر آف انٹینٹ) پر دستخط کیے گئے۔ اس اقدام کے تحت آئندہ ڈیڑھ سال کے دوران مہاراشٹر کے چار لاکھ سے زائد اساتذہ کو ’’گوگل اے آئی ایجوکیٹر سیریز‘‘ کے تحت خصوصی تربیت دی جائے گی۔ اس سلسلے میں منعقدہ تقریب وزیرِ تعلیم دادا جی بھوسے کی صدارت میں وزارت (منترالیہ) میں واقع ان کے دفتر میں منعقد ہوئی۔ گوگل فار ایجوکیشن کی جانب سے نائب صدر کرس فلپس جبکہ محکمہ اسکولی تعلیم کی جانب سے جوائنٹ سیکریٹری مسٹر تاشیلدار نے معاہدے پر دستخط کیے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم دادا جی بھوسے نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے اس دور میں اساتذہ کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت مرحلہ وار تربیتی عمل انجام دیا جائے گا۔ ابتدا میں منتخب ماسٹر ٹرینرز کو تربیت فراہم کی جائے گی، جو بعد میں ریاست بھر کے دیگر اساتذہ کو تربیت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق تربیت ریاست کی ہر اسکول تک پہنچے۔ بھوسے نے واضح کیا کہ اس پورے پروگرام کے لیے ریاستی حکومت پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا، کیونکہ تمام تربیت گوگل کی جانب سے مفت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اساتذہ کی ڈیجیٹل سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا اور پورے پروگرام پر مہاراشٹر حکومت کا مکمل کنٹرول برقرار رہے گا۔ریاستی وزیر برائے اسکولی تعلیم ڈاکٹر پنکج بھوئیر نے کہا کہ اکیسویں صدی میں تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ محکمہ کی خواہش تھی کہ سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں کے اساتذہ کو عالمی معیار کے ادارے سے تربیت حاصل ہو۔ گوگل فار ایجوکیشن کے ساتھ یہ اشتراک اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے ریاست کے لاکھوں اساتذہ کو جدید ترین تربیت حاصل ہوگی، جس کا فائدہ نہ صرف اساتذہ بلکہ طلبہ کو بھی پہنچے گا۔ ماسٹر ٹرینرز کے ذریعے ریاست کے ہر اسکول تک یہ تربیت پہنچانے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں ضروری بیداری پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔اس اشتراک کے تحت اساتذہ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی اور خواندگی میں اضافہ، ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی، مراٹھی، ہندی اور انگریزی زبانوں میں مقامی نوعیت کا تربیتی مواد فراہم کرنا، محفوظ ڈیجیٹل شناخت دینا اور گوگل کے جدید اے آئی ٹولز کے تعلیمی استعمال کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔ علاوہ ازیں اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دینے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ حکام کے مطابق یہ اقدام قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے اور اس کے ذریعے ٹیکنالوجی پر مبنی تدریسی طریقوں کو فروغ ملے گا۔اس منصوبے سے آئی سی ٹی لیبارٹریوں، کنیکٹڈ کلاس رومز، اسمارٹ کلاس رومز، ڈیجیٹل لائبریریوں اور لینگویج لیبارٹریوں جیسی جدید تعلیمی سہولیات کو مزید مضبوطی حاصل ہوگی، جس سے ریاست میں ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔ تقریب میں محکمہ اسکولی تعلیم کے پرنسپل سیکریٹری رنجیت سنگھ دیول، جوائنٹ سیکریٹری مسٹر تاشیلدار، گوگل فار ایجوکیشن کے سینئر عہدیدار سنجے جین، محکمہ کے دیگر اعلیٰ افسران اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande