
نئی دہلی، 18 جون (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ 12 سال سے حراست میں رہنے والے انڈین مجاہدین کے دو مبینہ مشتبہ افراد کی ضمانت کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس جویمالیہ باگچی کی صدارت والے ویکیشن بنچ نے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔
یہ عرضی محمد ثاقب انصاری اور وقار اظہر نے دائر کی ہے۔ سماعت کے دوران دہلی پولیس نے ضمانت کی عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ نے غور و خوض کے بعد فیصلہ دیا ہے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ ہائی کورٹ نے گلفشاں فاطمہ کے فیصلے میں بتائے گئے اصولوں کا نفاذ کیا تھا۔ تب سپریم کورٹ نے کہا کہ کے اے نجیب کا فیصلہ جس میں کہا گیا تھا کہ ٹرائل (سماعت) میں تاخیر یو اے پی اے معاملات میں ضمانت دینے کی ایک معقول بنیاد ہے، یہاں بھی نافذ ہوگا۔ عدالت نے دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ وہ ضمانت کی عرضی پر اپنا جواب داخل کرے۔
دراصل یہ معاملہ مبینہ غیر قانونی ہتھیار اور گولہ بارود کی فیکٹری سے متعلق دہشت گردانہ سازش سے منسلک ہے۔ دونوں ملزموں کو 2014 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں 2021 میں راجستھان میں الگ الگ معاملات میں ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے اور یو اے پی اے اور آرمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی میں دہشت گردانہ سازش رچنے کے معاملے میں اپریل میں دونوں کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد دونوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن