
مہاراشٹر کی سیاست میں ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ نئی بحث کا مرکز بن گیاممبئی ، 18 جون (ہ س) مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے تحت شیوسینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کو بڑا سیاسی نقصان پہنچا ہے، جہاں اس کے نو میں سے چھ لوک سبھا اراکین نے پارٹی قیادت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے بعد پارلیمانی سطح پر ادھو ٹھاکرے دھڑے کی پوزیشن کمزور ہونے کی بحث تیز ہو گئی ہے۔
سیاسی ذرائع کے مطابق باغی ارکانِ پارلیمنٹ نے نہ صرف پارٹی وہپ سے خود کو الگ رکھا بلکہ لوک سبھا اسپیکر کو تحریری طور پر اپنے نئے پارلیمانی گروپ کی تشکیل سے بھی آگاہ کر دیا۔ ان ارکان میں پربھنی کے سنجے جادھو، عثمان آباد کے اوم راجے نمبالکر، ہنگولی کے ناگیش پاٹل اشٹیکر، شیردی کے بھاؤ صاحب واکچورے، سنجے دینا پاٹل اور سنجے دیشمکھ شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان ارکان نے نئی دہلی میں منعقدہ ایک اہم پارلیمانی میٹنگ میں شرکت نہیں کی اور بعد ازاں شندے دھڑے سے وابستگی کا اعلان کر دیا۔ اس پیش رفت کو سیاسی حلقوں میں ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی منصوبہ بندی کافی عرصے سے جاری تھی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ باغی اراکین کو مستقبل میں اہم سیاسی کردار اور مرکز میں مؤثر نمائندگی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ پربھنی کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے جادھو کے حوالے سے یہ قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں کہ انہیں مستقبل میں مرکزی کابینہ میں شامل کیا جا سکتا ہے، تاہم اس سلسلے میں کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
عثمان آباد کے رکنِ پارلیمنٹ اوم راجے نمبالکر کی شمولیت کو اس سیاسی تبدیلی کا سب سے اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انہیں ادھو ٹھاکرے دھڑے کے نمایاں اور مؤثر چہروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ دوسری جانب ہنگولی کے ناگیش پاٹل اشٹیکر اور شیردی کے بھاؤ صاحب واکچورے کے فیصلوں نے بھی سیاسی حلقوں کی توجہ حاصل کی ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس پورے عمل کو انتہائی رازداری کے ساتھ انجام دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ باغی ارکان کو پہلے نئی دہلی اور بعد میں دیگر مقامات پر رکھا گیا تاکہ سیاسی رابطوں اور دباؤ سے بچا جا سکے۔ اسی دوران ایکناتھ شندے نے تمام ارکان سے رابطہ کر کے انہیں سیاسی تعاون اور مستقبل کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ باغی ارکان کا مؤقف ہے کہ پارٹی اپنی اصل نظریاتی سمت سے دور ہو گئی ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے الگ راستہ اختیار کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے دو تہائی سے زائد ارکان ان کے ساتھ ہیں، اس لیے انسدادِ انحراف قانون کے تحت انہیں قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔
ادھر شیوسینا (یو بی ٹی) نے اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے باغی اراکین کو نوٹس جاری کرنے اور ان کے خلاف نااہلی کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ عوام نے ان اراکین کو مخصوص نظریے اور جماعت کی بنیاد پر منتخب کیا تھا، اس لیے ان کے فیصلے کا سیاسی اور قانونی جائزہ لیا جائے گا۔ سنجے راؤت نے بھی اس پیش رفت کو غیر معمولی اہمیت دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ چند اراکین کے جانے سے جماعت ختم نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق پارٹی کی اصل طاقت کارکنوں اور ووٹروں میں موجود ہے۔ دوسری جانب شندے دھڑے کے رہنماؤں نے اس پیش رفت کو اپنی سیاسی حکمت عملی کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ساتھ آنے والے تمام اراکین نے اپنی مرضی سے فیصلہ کیا ہے اور کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا۔
اسی دوران ریاستی حکومت نے چھوں باغی اراکین کو وائی پلس سکیورٹی فراہم کر دی ہے، جبکہ ان کی رہائش گاہوں کے اطراف حفاظتی انتظامات بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت 2022 میں شیوسینا کے اندر پیدا ہونے والی تقسیم کے بعد طاقت کے توازن میں ایک اور اہم تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں لوک سبھا اسپیکر کے فیصلے، ممکنہ قانونی کارروائی اور دونوں دھڑوں کی سیاسی حکمت عملی اس معاملے کی سمت کا تعین کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے