ترقی اور ثقافت کا توازن ہی بااختیار اور خوشحال معاشرے کی بنیاد: دروپدی مرمو
بیتول میں قبائلی مہا سمیلن میں شامل ہوئیں صدر جمہوریہ، کہا - قبائلی معاشرے کا طرزِ زندگی انسانیت کا رہنما بیتول، 18 جون (ہ س)۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا ہے کہ روحانی بیداری انسان کو اپنی اندرونی طاقت کا احساس کراتی ہے اور مثبت سوچ کو زند
بیتول میں منعقدہ روحانی بیداری سے قبائلی معاشرے کا تفویضِ اختیار مہا سمیلن کا آغاز کرتی ہوئیں صدر جمہوریہ


بیتول میں قبائلی مہا سمیلن میں شامل ہوئیں صدر جمہوریہ، کہا - قبائلی معاشرے کا طرزِ زندگی انسانیت کا رہنما

بیتول، 18 جون (ہ س)۔

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا ہے کہ روحانی بیداری انسان کو اپنی اندرونی طاقت کا احساس کراتی ہے اور مثبت سوچ کو زندگی کے اعلیٰ اصولوں سے جوڑتی ہے۔ ترقی اور ثقافت کا توازن ہی کسی بھی بااختیار اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ دائمی ترقی وہی ہے، جو ہماری جڑوں کو مضبوط بناتے ہوئے مستقبل کے امکانات کا راستہ ہموار کرے۔

صدر جمہوریہ مرمو جمعرات کو مدھیہ پردیش کے بیتول میں پرجاپیتا برہما کماری ایشوریہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ’روحانی بیداری سے قبائلی معاشرے کا تفویضِ اختیار‘ مہا سمیلن سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کا تفویضِ اختیار صرف معاشی ترقی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ حقیقی تفویضِ اختیار تب ہوتا ہے جب انسان میں خود اعتمادی، خود داری، بیداری اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی معاشرہ خود داری کے ساتھ زندگی گزارنے والا معاشرہ ہے اور اس کی یہی خصوصیت اسے منفرد بناتی ہے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان نے سال 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کا حصول اسی وقت ممکن ہے، جب ملک کا ہر طبقہ ترقی کے مرکزی دھارے سے جڑ جائے۔ ہمالیہ سے لے کر کنیا کماری تک ہندوستان کی ثقافتی اور قدرتی وراثت محفوظ اور برقرار رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ برہما کماری ادارے کے ذریعے منعقدہ اس طرح کے سمینار قبائلی معاشرے کی روحانی بیداری، سماجی بیداری اور ہمہ گیر ترقی کے لیے بے حد مفید ثابت ہوں گے۔

انہوں نے مدھیہ پردیش حکومت کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں تعلیم، صحت اور قبائلی بہبود کے لیے کئی اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر سِکل سیل انیمیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں اس بیماری کا امکان زیادہ پایا جاتا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے موثر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کوششوں سے قبائلی معاشرے کی صحت کا معیار مزید بہتر ہوگا۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ مدھیہ پردیش کا ضلع بیتول اپنی مالامال قبائلی ثقافت، قدرتی حسن اور روحانی شعور کے لیے پورے ملک میں خاص شناخت رکھتا ہے۔ یہاں کے قبائلی سماج نے اپنی روایتوں، لوک دانش اور ثقافتی اقدار کو نسل در نسل محفوظ رکھا ہے۔ اجتماعیت، تعاون، سادگی، ایمانداری اور روحانیت جیسی اعلیٰ زندگی کی اقدار کی زندہ شکل بیتول کی قبائلی ثقافت میں نظر آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی طبقے کے تفویضِ اختیار کے ہدف پر مرکوز اس مہا سمیلن میں شامل ہو کر انہیں بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ تقریب نہ صرف بیتول یا مدھیہ پردیش، بلکہ پورے ملک اور معاشرے کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مہا سمیلن میں تیار ہونے والے ایکشن پلان قبائلی معاشرے کو ملک کی ترقی کا مضبوط شراکت دار بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ برہما کماری ادارے نے خواتین کی طاقت کو مرکز میں رکھ کر اپنی اسکیموں اور پروگراموں کو آگے بڑھایا ہے۔ ادارے کی اندرونی پاکیزگی، انسانی وقار، خدمت کا جذبہ اور قدرت کے تئیں حساسیت معاشرے کے لیے قابلِ تقلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی بھاگ دوڑ بھری دنیا میں اندرونی پاکیزگی اور روحانی اقدار کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہی اقدار کی بنیاد پر معاشرے میں برابری پر مبنی رویہ، قدرت کے تئیں حساسیت اور قدرتی وسائل کے تحفظ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ موجودہ وقت میں جب دنیا تناو، تصادم اور جنگ جیسی صورتِ حال کا سامنا کر رہی ہے، تب ایسی تقاریب کی ضرورت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی طبقے کا طرزِ زندگی قدرتی طور پر روحانی اقدار اور فطرت کے قریب رہا ہے۔ قبائلی معاشرہ، جسے آدی واسی سماج بھی کہا جاتا ہے، کائنات کے آغاز ہی سے زمین کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارتا آیا ہے۔ یہ معاشرہ سکھ، امن، خوشی اور محبت کے ساتھ زندگی گزارنا جانتا ہے اور تشدد سے دور رہتا ہے۔ قبائلی معاشرہ نہ صرف قدرت، بلکہ عناصرِ خمسہ یعنی زمین، آسمان، ہوا، پانی، سورج اور چاند کو قابلِ احترام مانتا ہے۔ ان کے لیے کسی خاص مندر یا عبادت گاہ کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ پوری قدرت ہی ان کے لیے عبادت کا مرکز ہے۔

صدر جمہوریہ مرمو نے کہا کہ زمین، پانی اور ہوا کے بغیر انسانی زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ قبائلی معاشرہ قدرت کو نقصان پہنچانے کے بجائے اس کا تحفظ کرتا ہے۔ وہ زمین کو نقصان نہیں پہنچاتے، پانی کے ذرائع کو آلودہ نہیں کرتے اور قدرتی وسائل کا استعمال بھی ضرورت کے مطابق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی معاشرہ کسی بھی وسیلے کے استعمال سے پہلے قدرت کو نمن (سلام) کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا طرزِ زندگی ماحولیاتی تحفظ کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔ آج جب پیڑ پودوں، ندیوں اور سمندروں کے تحفظ کی ضرورت پوری دنیا محسوس کر رہی ہے، تب قبائلی معاشرے کا طرزِ زندگی انسانیت کے لیے رہنما بن سکتا ہے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ کیمیائی کھادوں اور غیر ملکی کیڑے مار دواوں کا بڑھتا ہوا استعمال زمین کی زرخیزی کو ختم کر رہا ہے اور اس کی وجہ سے کئی طرح کی بیماریاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ قدرتی کھیتی ہندوستان کی اصل روایت رہی ہے اور آج ملک دوبارہ اسی سمت میں لوٹ رہا ہے۔ قدرتی کھیتی نہ صرف صحت کے لیے فائدہ مند ہے، بلکہ یہ ذہن، جسم اور روحانی شعور کو بھی مثبت طور پر متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برہما کماری ادارہ طویل عرصے سے قبائلی معاشرے کے ساتھ مل کر قدرتی طرزِ زندگی اور تحفظِ قدرت کی سمت میں کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے موجودہ دور میں قبائلی نوجوانوں کو جدید تعلیم، ہنر مندی کی ترقی اور ڈیجیٹل تفویضِ اختیار سے جوڑنا ضروری ہے، جس سے وہ جدید وسائل کا فائدہ اٹھا سکیں۔ ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ان کی ثقافتی شناخت، روایتیں اور روحانی وراثت محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہا سمیلن اسی سنگم کی مضبوط مثال ہے اور معاشرے کو نئی سمت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے تمام شہریوں سے سال 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے مزید عزم اور لگن کے ساتھ کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سماجی ہم آہنگی، تحفظِ ماحول، روحانی شعور اور انسانی بہبود ہی ہمہ گیر اور ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد بنیں گے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande