

بیتول میں صدر جمہوریہ کی مہمان خصوصی میں ’’روحانی بیداری سے قبائلی معاشرے کا تفویضِ اختیار‘‘ مہا سمیلن منعقد ہوا
بیتول، 18 جون (ہ س)۔
مرکزی وزیر مملکت برائے قبائلی امور درگاداس اوئیکے نے کہا ہے کہ اڈیشہ کے ایک چھوٹے سے قبائلی گاوں سے نکل کر ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک پہنچنے والی صدر جمہوریہ دروپدی مرمو ہندوستانی جمہوریت کی طاقت، آئین کی عظمت اور سماجی ہم آہنگی کی ایک زندہ مثال ہیں۔ ان کی زندگی جدوجہد، لگن، خدمت اور فرض شناسی کی ایک بے مثال مثال ہے۔
مرکزی وزیر اوئیکے جمعرات کو مدھیہ پردیش کے بیتول میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی موجودگی میں پرجاپیتا برہما کماری ایشوریہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ’روحانی بیداری سے قبائلی معاشرے کا تفویضِ اختیار‘ مہا سمیلن سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ مرمو نے اپنی محنت، صبر اور معاشرے کے محروم طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے اٹوٹ عزم کی بدولت نہ صرف اعلیٰ ترین آئینی عہدے کی رونق بڑھائی ہے، بلکہ وہ ملک کی ہر بیٹی، قبائلی معاشرے اور عام شہری کے لیے مشعلِ راہ بن گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ کی بیتول آمد سے ضلع کا ہر قبائلی خاندان خود کو فخر محسوس کر رہا ہے۔ ان کی قیادت سماجی انصاف، آئینی اقدار کے تحفظ اور تعمیرِ وطن کے لیے سب کو ترغیب دیتی ہے۔
مدھیہ پردیش کے گورنر منگو بھائی پٹیل نے کہا کہ روحانی شعور اور مذہبی اقدار کے ذریعے معاشرے کو ترقی یافتہ، مہذب اور باعزت زندگی گزارنے کی ترغیب ملتی ہے۔ انہوں نے اس شاندار اور پروقار تقریب کے لیے پرجاپیتا برہما کماری ایشوریہ یونیورسٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ادارے کے تمام بھائی بہنوں کو نیک خواہشات پیش کیں۔
گورنر پٹیل نے کہا کہ پرجاپیتا برہما کماری ادارے کے ساتھ ان کا سال 1995 سے دلی لگا رہا ہے۔ نوساری میں ان کی رہائش گاہ کے سامنے واقع برہما کماری مرکز سے لے کر مانٹ ابو اور گاندھی نگر سمیت مختلف مقامات پر منعقدہ پروگراموں میں انہیں شامل ہونے کا موقع ملا ہے۔ ادارے کی جانب سے روحانی بیداری کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا کام قابلِ ستائش اور قابلِ تقلید ہے۔ انہوں نے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہا کہ روزانہ کچھ وقت دھیان اور میڈیٹیشن کے لیے نکالنے سے دل کو سکون، مثبت توانائی اور روحانی توازن حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح کی روحانی مشقیں انسان کی زندگی میں سکھ، امن اور خیر سگالی کا جذبہ پیدا کرتی ہیں اور معاشرے کو بھی ایک مثبت سمت دیتی ہیں۔
اس سے پہلے صدر جمہوریہ مرمو کی بیتول آمد پر انحد سنگیت مہا ودیالیہ بیتول کے 7 رکنی فنکاروں نے دلکش اور خوبصورت استقبالیہ رقص پیش کیا۔ صدر جمہوریہ نے کلش اور پرچم برہما کماری بہنوں کو سونپ کر روحانی بیداری سے قبائلی معاشرے کا تفویضِ اختیار مہا سمیلن کا باقاعدہ آغاز کیا۔ مہا سمیلن میں صدر جمہوریہ، مرکزی وزیر اوئیکے اور گورنر منگو بھائی پٹیل سمیت دیگر مہمانوں کا راج یوگنی منجو دیدی نے یادگاری نشان پیش کر کے استقبال کیا۔
اس کے بعد صدر جمہوریہ نے مہا سمیلن کے احاطے میں بیتول ضلع کی ثقافتی جھلک اور ترقیاتی اسکیموں پر مبنی نمائش کا جائزہ لیا۔ انہوں نے قبائلی معاشرے کی جانب سے قدرتی کھیتی کے ذریعے تیار کردہ مصنوعات کی ستائش کی۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے پبلک ہیلتھ اور میڈیکل ایجوکیشن نریندر شیواجی پٹیل، برہما کماری ادارے سے راج یوگنی شیلجا دیدی، راج یوگنی منجو دیدی اور راج یوگی ڈاکٹر بی کے نتھمل وغیرہ موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن